مسئلہ:
بعض لوگ کسی شخص کا موبائل نمبر کہیں سے حاصل کرکے ، بذریعہ ایس ایم ایس (SMS)یا کال ، اپنے آپ کو کسی مشہور کمپنی کا ایجنٹ اور نمائندہ بتاکر کہتے ہیں کہ کمپنی نے اپنے گاہکوں کے درمیان قرعہ اندازی کرکے آپ کو مثلاً ۲۰/ لاکھ یا ۲۵/ لاکھ کے انعام کا مستحق قرار دیا ہے، اس لیے آپ اپنا بینک اکاوٴنٹ نمبر ہمیں بھیج دیں، ہم آپ کے انعام کی رقم اس اکاوٴنٹ نمبر سے آپ کو روانہ کردیں گے، البتہ اس رقم کے روانہ کرنے پر جو خرچ آئے گا، وہ آپ کو برداشت کرنا ہوگا، لہٰذا آپ خرچ کی وہ رقم ہمارے فلاں اکاوٴنٹ میں جمع کردیں، اس کے بعد ہی آپ کے انعام کی یہ رقم آپ کے اکاوٴنٹ میں منتقل کی جائے گی، سامنے والا فریق مطلوبہ رقم ان کے بتائے ہوئے اکاوٴنٹ میں جمع کرتا ہے، تو اسے متوقع انعام کی رقم تو نہیں ملتی مگر وہ اپنی رقم سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، اور رنج والم کا شکار ہوتا ہے، اس طرح کسی کو دھوکہ دے کر اس سے رقم اینٹھنا اور اسے استعمال کرنا شرعاً ناجائز وحرام ہے، جس پر بڑی سخت وعید وارد ہوئی ہے۔
عام لوگوں کوچاہیے کہ وہ اس طرح کے ٹھگوں اور لُٹیروں سے ہوشیار وچوکنارہیں، تاکہ ان کے گاڑھے پسینے کی حلال کمائی ،کوئی اس طرح دھوکہ دے کر نہ لینے پائے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یآیها الذین اٰمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل﴾۔(سورة النساء: ۲۹)
ما في ” روح المعاني “ : والمراد بالباطل ما یخالف الشرع کالربوا والقمار والبخس والظلم، وعن الحسن: وهو ما کان بغیر استحقاق في طریق الأعواض۔(۲۲/۵)
ما في ” الصحیح لمسلم “ : قال رسول الله ﷺ: ” من غشّنا فلیس منّا “۔
(۷۰/۱، باب قول النبي ﷺ من غشنا فلیس منا، جامع الترمذي: ۲۴۵/۱ ، البیوع، باب ما جاء في کراهیة الغشّ في البیوع)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : اتفق الفقهاء علی أن الغش حرام، سواء أکان بالقول أم بالفعل، وسواء أکان بکتمان العیب في المعقود علیه أو الثمن أم بالکذب والخدیعة، وسواء أکان في المعاملات أم في غیرها من المشورة والنصیحة۔ (۲۱۹/۳۱)
