مسئلہ:
اگر کوئی شخص قرآن کریم کی تلاوت کررہا ہو، اور اس درمیان اس کے پاس کوئی شخص آجائے ، توقاریٴ قرآن کے لیے اس کی تعظیم میں کھڑا ہونا جائز نہیں ہے، مگر یہ کہ آنے والا شخص عالمِ دین ہے، یا اس قاری کا باپ ہے، یا اس کا استاذ ہے، جس نے اس کو علمِ دین کی تعلیم دی ، تو اس کی تعظیم کے لیے کھڑا ہونا جائز ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : قوم یقروٴن القرآن من المصاحف أو یقرأ رجل واحد فدخل علیه واحد من الأجلة أو الأشراف فقام القارئ لأجله، قالوا: إن دخل عالم أو أبوه أو أستاذه الذي علّمه العلم جاز له أن یقوم لأجله، وما سوی ذلک لا یجوز، کذا في فتاوی قاضي خان۔
(۳۱۶/۵، کتاب الکراهیة، الباب الرابع في الصلاة والتسبیح وقراءة القرآن الخ، فتاوی قاضيخان:۳۷۷/۴، کتاب الحظر والإباحة، فصل التسبیح والتسلیم والصلاة علی النبي ﷺ الخ)
ما في ” رد المحتار “ : وقیام قارئ القرآن لمن یجيء تعظیماً لا یکره إذا کان ممن یستحق التعظیم۔(۵۵۱/۹، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیره)
(کفایت المفتی:۱۳۲/۱)
