مسئلہ:
بال عورتوں کی زینت ہیں، انہیں بلا عذر شرعی کاٹنا جائز نہیں ، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کسی عورت کے بالوں میں کوئی ایسی بیماری لگ گئی ہو کہ اس سے سِرے ٹوٹ کر شاخ دار ہوجاتے ہوں، تو ایسے بالوں کے شاخدار کنارے کاٹ دینے کی شرعاً گنجائش ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ یہ عمل بھی کسی ایسے معالج کے مشورے سے ہو، جو بالوں کی بیماری اوراس کے علاج میں مہارت اور تجربہ رکھتا ہو۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : قطعت شعر رأسها أثمت ولعنت ۔ زاد في البزازیة: وإن بإذن الزوج، لأنه لا طاعة لمخلوق في معصیة الخالق ۔۔۔۔ والمعنی الموٴثر التشبه بالرجال۔ اه۔(۵۸۳/۹۔۵۸۴، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیره)
ما في ” الهندیة “ : ولو حلقت المرأة رأسها فإن فعلت لوجع أصابها لا بأس به، وإن فعلت ذلک تشبها بالرجال فهو مکروه ۔ کذا في الکبری ۔
(۳۵۸/۵، کتاب الکراهیة، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وقلم الأظفار وقص الشارب الخ)
(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ:۱۳۱۶۰)
