مسئلہ:
خواتین کا مردوں کی طرح چال ڈھال اور لباس اپنانا، اسی طرح مردوں کا خواتین کے مشابہ رہن سہن اختیار کرنا ، جسے دورِ حاضر میں ”ایمو کلچر“ کے نام سے نہ صرف متعارف کرایا جارہا ہے، بلکہ اسلام دشمن طاقتیں پوری منصوبہ بندی کے ساتھ اِسے فروغ دینے کے لیے سرگرم وکوشاں ہیں، جب کہ ایمو کلچر اسلامی تہذیب وثقافت کے خلاف ہے، اس لیے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے مردوں کو عورتوں کی اور عورتوں کو مردوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” صحیح البخاري “ : عن ابن عباس قال: ” لعن رسول الله ﷺ المتشبهات بالرجال من النساء والمتشبهین بالنساء من الرجال “۔
(۸۷۴/۲، باب المتشبهون بالنساء والمتشبهات بالرجال)
ما في ” تفسیر الطبري “ : لا یجوز للرجال التشبه بالنساء في اللباس والزینة تختص بالنساء، ولا العکس۔
(۴۰۹/۱۰، باب المتشبهون بالنساء والمتشبهات بالرجال، تحفة الأحوذي: ۷۲/۸)
(فتاویٰ محمودیه:۳۱۶/۱۹)
