شک سے یقین ختم نہیں ہوتا/اشیاء میں اصل اباحت ہے

مسئلہ:

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ عام طور پر دودھ فروش پاکی ناپاکی کا اہتمام نہیں کرتے، اور یہ بات دیکھنے میں آتی ہے کہ تھنوں پر اور اس کے آس پاس جو پیشاب اور گوبر لگا رہتا ہے، اس کو وہ بہت تھوڑے پانی سے دھوتے ہیں، جس سے نجاست اور پھیل جاتی ہے، اور اس کے قطرے برتن میں ٹپکتے رہتے ہیں، جس سے دودھ ناپاک ہوجاتا ہے، اس لیے اس کا استعمال جائز نہیں ہونا چاہیے، اُن کی یہ بات درست نہیں ہے، کیوں کہ اصول یہ ہے کہ محض شک کی وجہ سے یقین زائل اور ختم نہیں ہوتا(۱)، اور اشیاء میں اصل اباحت ہے، جب تک حرمت کا یقین نہ ہو(۲)، اور اِن ہی دو اُصولوں کی بنیاد پر کثیر الاستعمال اشیاء مثلاً پانی، غلہ ، دودھ اور پھل وغیرہ کے استعمال میں حضراتِ فقہاء کرام نے وسعت دی ہے، لہٰذا جب تک دودھ میں نجاست گرتے ہوئے ، یا پیشاب کے قطرے پڑتے ہوئے نہ دیکھے جائیں، اس وقت تک دودھ کے ناپاک ہونے اور اس کے استعمال کے ممنوع ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الأشباه والنظائر لإبن نجیم الحنفي “ : ” الیقین لا یزول بالشّکِّ “۔(۲۲۰/۱، القاعدة الثالثة، کذا في قواعد الفقه: ص/۵۹)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : ان ما ثبت بیقین لا یرتفع بالشک، وما ثبت بیقین لا یرتفع إلا بیقین۔ (۲۸۹/۴۵، یقین)

(۲) ما في ” قواعد الفقه “ : ” الأصل في الأشیاء الإباحة “۔(ص:۵۹، کذا في الأشباه والنظائر لإبن نجیم:۲۵۲/۱، رقم التفریع: ۴۳۸، الموسوعة الفقهیة:۱۳۰/۱)

(احسن الفتاویٰ:۱۰۷/۸)

اوپر تک سکرول کریں۔