ہاکرس ”Hawkers“یعنی اخبار فروشوں کو ایک تنبیہ

مسئلہ:

بعض اردو عربی اَخباروں کے ہاکرس(گھوم پھر کر اخبار بیچنے والے) صبح سویرے، اپنے گاہکوں کے گھروں میں اخباروں کو پھینکتے ہوئے جاتے ہیں، جب کہ ان اخباروں میں قرآنی آیات او راحادیثِ مبارکہ بھی لکھی ہوتی ہیں، گرچہ یہ بات مسلم ہے کہ اخبارات کا وہ حکم نہیں ہے جو قرآن کریم ، احادیث اور متبرک کلمات پر مشتمل کتابوں کا ہے، تاہم اخبارات میں بھی اسماء الٰہیہ اور قرآنی آیات کے تراجم اور احادیث ہوتی ہیں، اس لیے حتی الامکان ایسی صورت اختیار کرنی چاہیے، کہ اسماء الٰہیہ کی بے ادبی نہ ہو، اور اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ متعلق شخص کے مشورے سے ایک جگہ متعین کرلی جائے ، جہاں ہاکرس اِن اخباروں کو رکھ کر چلے جایا کریں، اور بعد میں وہ حسبِ سہولت اٹھالیا کرے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ولو کتب القرآن علی الحیطان والجدران بعضهم قالوا: یُرجی أن یجوز، وبعضهم کرهوا ذلک مخافة السقوط تحت أقدام الناس، کذا في فتاوی قاضی خان۔

(۳۲۳/۵، کتاب الکراهیة، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة ۔۔ الخ ، فتاوی قاضي خان:۳۷۸/۴، کتاب الحظر والإباحة، فصل في التسبیح والتسلیم ۔۔ الخ، المکتبة الحقانیة بشاور)

ما في ” حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح “ : فروع: یکره کتابة قرآن أو اسم الله تعالی علی ما یفرش لما فیه من ترک التعظیم، وکذا علی درهم وجدار لما یخاف من سقوط الکتابة۔ (ص:۱۴۸، کتاب الطهارة، باب الحیض والنفاس والاستحاضة)

(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ :۱۰۶۵۶)

اوپر تک سکرول کریں۔