مسئلہ:
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، اس لیے اس کے لیے واحد کا صیغہ استعمال کرنا چاہیے، جیسے اللہ تعالیٰ ”کرتا دھرتا“ ہے، جمع کا صیغہ استعمال نہیں کرنا چاہیے، جیسے اللہ تعالیٰ ”کرتے دھرتے“ ہیں، اُن کا یہ خیال غلط ہے، صحیح بات یہ ہے کہ اللہ رب العزت کے لیے واحد وجمع دونوں صیغے استعمال کیے جاسکتے ہیں، صیغہٴ واحد کے استعمال کا صحیح ہونا توظاہر ہے(۱)، رہا صیغہٴ جمع تو وہ تعظیماً وادباً بولا جاتا ہے، اس لیے وہ بھی درست ہے ، خود اللہ پاک نے اپنے لیے صیغہٴ جمع استعمال فرمایا ہے، فرمانِ خداوندی ہے: ﴿إنا أعطینٰک الکوثر﴾ ”بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمایا“ ﴿إنا أنزلناہ في لیلة القدر﴾ ” بے شک ہم نے قرآن شریف کو شبِ قدر میں اتارا“ اور ﴿ونحن أقرب إلیه من حبل الورید﴾ ” بے شک ہم انسان کے اس قدر قریب ہیں کہ اس کی رگِ گردن سے بھی زیادہ“۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿إنني أنا الله لا إله إلا أنا فاعبدني﴾۔ (طه : ۱۴)
(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿إنا أعطیناک الکوثر﴾ ۔ (الکوثر:۱)۔ ﴿إنا أنزلناه في لیلة القدر﴾۔ (القدر:۱)۔ ﴿ونحن أقرب إلیه من حبل الورید﴾۔ (قٓ :۱۶)۔ ﴿إنا نحن نزّلنا الذکر وإنا له لحافظون﴾۔ (سورة الحجر: ۹)
ما في ” التفسیر الکبیر للرازي “ : فأما قوله: (إنا نحن نزّلنا الذکر) فهذه الصیغة وإن کانت للجمع إلا أن هذا من کلام الملوک عند إظهار التعظیم فإن الواحد منهم إذا فعل فعلا أو قال قولا قال: ” إنا فعلنا کذا، وقلنا کذا “، فکذا ههنا۔ (۱۲۳/۷، الحجر: ۹)
(فتاویٰ محمودیه: ۲۹/۳، آپ کے مسائل اور اُن کا حل:۷۱/۱، تخریج شده جدید ایڈیشن)
