مسئلہ:
دانت صاف وسفید نظر آئیں، اس کے لیے آج کل یہ طریقہ اپنایا جاتا ہے کہ دانت کو کھُرچ کر اس پر پلاسٹک کا ایک خول چپکایا جاتا ہے، وہ مستقل دانتوں پر لگا رہتا ہے، دو تین سال کے بعد خود ہی کمزور ہوکر اتر جاتا ہے، عامةً اسے اتارنا آسان نہیں ہوتا، اگر یہ خول دانتوں سے اِس طرح جڑ گیا ہوکہ اسے دانتوں سے الگ کرنا واقعتا دشوار ہو، تو اس کے دانتوں پر ہوتے ہوئے غسل درست ہوجائے گا۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : ولا یمنع ما علی ظفر صباغ ولا طعام بین أسنانه أو في سنه المجوف ۔ به یفتی ۔ (۲۵۹/۱، کتاب الطهارة، مطلب في أبحاث الغسل)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : والصرام والصباغ ما في ظفرهما یمنع تمام الاغتسال وقیل کل ذلک یجزیهم للحرج والضرورة، ومواضع الضرورة مستثناة عن قواعد الشرع ۔ کذا في الظهیریة ۔
(۱۳/۱، کتاب الطهارة، الباب الثاني في الغسل، الفصل الأول في فرائضه، کذا في التاترخانیة:۸۴/۱، کتاب الطهارة، الفصل الثالث في الغسل، نوع آخر في بیان فرائضه وسننه)
(فتاویٰ محمودیہ :۱۶۱/۸ ، ط؛ میرٹھ، احسن الفتاویٰ : ۳۲/۲، فتاویٰ حقانیہ :۵۲۳/۲،فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ :۳۱۱۷۸)
