بچوں کی صف کے سامنے سے گزرنا

مسئلہ:

بعض دفعہ بڑے آدمیوں کی صف میں خالی جگہ ہوتی ہے، اور اس کے پیچھے بچوں کی لمبی صف ہوتی ہے، ایسی صورت میں اگلی صف میں موجود خالی جگہ پُر کرنے کے لیے بڑے آدمی کو بچوں کی اُس صف کے سامنے سے گزرنا پڑتا ہے، تو بڑے آدمی کے لیے بچوں کی صف کے سامنے سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں ، جائز ہے، کیوں کہ یہ گزرنا ضرورةً ہے، البتہ بلا ضرورت ان کے سامنے سے گزرنا بھی جائز نہیں ہے، کیوں کہ اُن کی نماز بھی شرعاً نماز ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” رد المحتار “ : وفي القنیة: قام آخر صف وبین الصفوف مواضع خالیة، فللداخل أن یمرّ بین یدیه لیصل الصفوف، لأنه أسقط حرمة نفسه فلا یأثم المارّ بین یدیه- دل ما في الفردوس عن ابن عباس عنه ﷺ ”من نظر إلی فرجة في صف فلیسدّها بنفسه، فإن لم یفعل فمرّ مارّ فلیتخط علی رقبته فإنه لا حرمة له“ أي فلیتخط المارّ علی رقبة من لم یسدّ الفرجة۔ (۳۱۳/۲، کتاب الصلاة، باب الإمامة ، بیروت)

وفیه: کمن صلی خلف فرجة الصف فلا یمنعون من المرور لتعدیه ، فلیتأمل، ۔۔۔۔۔ قلت : ولیس المراد بالتخطي الوطء علی رقبته لأنه قد یوٴدی إلی قتله ولا یجوز، بل المراد أن یخطو من فوق رقبته، وإذا کان له ذلک فله أن یمرّ من بین یدیه بالأولی۔(۴۰۰/۲۔۴۰۱، کتاب الصلاة، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها، بیروت)

ما في ” النهر الفائق “ : ولو وجد فرجة في الأول والثاني کان له أن یخرق الثاني ویصلي في الأول لأنه لا حرمة له۔ (۲۴۶/۱، باب الإمامة والحدث في الصلاة)

ما في ” مراقي الفلاح “ : وإذا وجد فرجة في الصف الأول دون الثاني فله خرقه لترکهم سدّ الأول۔ (ص:۱۱۴، فصل في الأحق بالإمامة وترتیب الصفوف)

(فتاویٰ رحیمیہ :۱۱۲/۵ ، فتاویٰ محمودیہ :۴۶۱/۹ – ۴۶۸)

اوپر تک سکرول کریں۔