مسئلہ:
جمعہ کے دن پہلی اذان کے بعد جمعہ کی تیاری کے علاوہ کوئی بھی کام جائز نہیں ہے، خواہ دینی کام ہی کیوں نہ ہو۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یایها الذین آمنوا إذا نودي للصلوة من یوم الجمعة فاسعوا إلی ذکر الله وذروا البیع﴾۔ (سورة الجمعة:۹)
ما في ” تفسیر المظهري “ : (وذروا البیع) أراد ترک ما یشغل عن الصلوة والخطبة وإنما خصّ البیع بالذکر لاشتغالهم غالبا بعد الزوال في الأسواق بالبیع والشراء۔ اه۔
(۲۷۶/۹، ط: زکریا بکڈپو دیوبند)
ما في ” التنویر وشرحه “ : (ووجب سعي إلیها وترک البیع بالأذان الأول) ولو مع السعي۔ وفي الشامیة: قوله: (وترک البیع) أراد به کل عمل ینافي السعي وخصّه اتباعًا للآیة۔ نهر۔(۳۵/۳، مطلب في حکم المرقي بین یدي الخطیب )
ما في ” بیان القرآن “ (إذا نودي للصلوة) نودي سے مراد قرآن میں وہ اذان ہے جو نزولِ آیت کے وقت تھی ، یعنی جو امام کے سامنے ہوتی ہے، کیوں کہ یہ اذانِ اول صحابہ کے اجماع سے بعد میں مقرر ہوئی ہے، لیکن حرمتِ بیع میں حکم اُس کا بھی مثل حکم اذانِ قدیم کے ہے، کیوں کہ اشتراکِ علت سے حکم میں اشتراک ہوتا ہے، البتہ قدیم میں یہ حکم منصوص وقطعی ہوگا، اور اذانِ حادث میں یہ حکم مجتہد فیہ وظنی ہوگا، اس سے تمام اشکالاتِ علمیہ مرتفع ہوگئے۔ (۵۴۷/۳، ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان ، پاکستان)
ما في ” تفسیرات احمدیه “ : قوله تعالی: ﴿وذروا البیع﴾ کا معنی یہ ہے کہ ہر وہ شغل جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روکے چھوڑدینا چاہیے۔(ص:۸۰۵، حصہ دوم، ط: المیزان اردوبازار لاہور)
(احسن الفتاویٰ : ۱۵۰/۴، ۱۵۱)
