جمعہ کے دن خطبہ سے پہلے آنا

مسئلہ:

نمازِ جمعہ کے لیے خطبہ شروع ہونے سے پہلے آنا چاہیے، کیوں کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جمعہ کی حاضری لکھنے کے لیے فرشتے مقرر ہوتے ہیں، جو شخص پہلی گھڑی میں آئے اس کے لیے اونٹ کی قربانی کا ثواب لکھا جاتا ہے، اور بعد میں آنے والوں کا ثواب گھٹتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب خطبہ شروع ہوتا ہے تو فرشتے صحیفے لپیٹ کر رکھ دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ خطبہ شروع ہونے کے بعد آتے ہیں ، اُن کی حاضری نہیں لگتی، لہٰذا جس شخص نے خطبہ نہیں سنا، امام کے ساتھ نماز تو اس کی بھی ہوجائے گی، مگر فرشتوں کے رجسٹرمیں جمعہ کے دن کی حاضری لگوانے سے وہ محروم ہوگیا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أبي هریرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: ” إذا کان یوم الجمعة وقفت الملائکة علی باب المسجد یکتبون الأول فالأول، ومثل المُهجِّرِ کمثل الذي یهدي بدنة ثم کالذي یهدي بقرة ثم کبشًا ثم دجاجة ثم بیضة، فإذا خرج الإمام طَوَوْا صحفهم ویستمعون الذکر “۔ متفق علیه۔

(ص: ۱۲۲، کتاب الصلاة، باب التنظیف والتکبیر، الفصل الأول، رقم الحدیث: ۱۳۷۴)

ما في ” مرقاة المفاتیح “ : قوله: (طووا صحفهم) أي دفاترهم التي یکتبون فیها أسماء أهل الجمعة أولا فأولا، والأجر علی قدر مراتبهم في السبق فرعًا وأصلا، وفي روایة النسائي: ” طووا صحفهم فلا یکتبون شیئًا “ أي من ثواب التبکیر۔ (۴۳۱/۳)

(آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۱۳۰/۴)

اوپر تک سکرول کریں۔