نابالغ بچوں کو اعتکاف بٹھانا

مسئلہ:

آج کل مسجد میں نابالغ بچوں کو بھی اعتکاف میں بٹھادیا جاتا ہے، جو کہ پریشانی کا باعث بنتے ہیں، جب کہ اعتکاف عاقل، بالغ مسلمانوں کے لیے مسنون ہے، بچوں کے لیے نہیں، سمجھدار بچے کا اعتکاف میں بیٹھنا اگرچہ فی نفسہ جائز ہے(۱)، مگر اِس زمانے میں بچوں کے اعتکاف بیٹھنے میں بہت سے مفاسد اور خرابیاں ہیں(۲)، جن کے ہوتے ہوئے بچوں کو اعتکاف میں بٹھانا جائز نہیں۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وأما البلوغ فلیس بشرط لصحة الاعتکاف، فیصح من الصبي العاقل۔ (۱۱۲/۱، بدائع الصنائع:۱۰۸/۲، ط: المکتبة العلمیة بیروت)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : اتفق الفقهاء علی أنه یصحّ الاعتکاف من الرجل والمرأة والصبي الممیّز۔(۲۰۹/۵،المعتکِفُ،شامیة:۴۴۱/۲،باب الاعتکاف،ط:دار الفکر)

(۲) ما في ” الشامیة “ : ” ما کان سببًا لمحظورٍ فهو محظورٌ “۔ (۲۲۳/۵، ط: نعمانیه دیوبند)

(اعتکاف کے مسائل :ص/۲۴۔۲۵)

اوپر تک سکرول کریں۔