مریض ومعذور کی طرف سے رمی

مسئلہ:

اگر کوئی مریض اورمعذور شخص جو خود رمی کرنے پر قادر نہ ہو، کسی دوسرے کو اپنی طرف سے رمی کرنے کا حکم دے، اور دوسرا شخص اُس کی طرف سے رمی کرے توجائز ہے(۱)، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ نائب پہلے اپنی سات کنکریاں پوری کرے، اس کے بعد مریض اور معذور شخص کی طرف سے سات کنکریاں مارے، اگر یہ نائب شخص اس طرح رمی کرے کہ ایک کنکری اپنی طرف سے اور دوسری مریض ومعذور کی طرف سے ، تیسری اپنی طرف سے اور چوتھی مریض ومعذور کی طرف سے ، یعنی دونوں کی رمی ایک ساتھ پوری کرے، تو یہ مکروہ ہے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” البحرالرائق “ : ومن کان مریضا أو مغمی علیه توضع الحصاة فی یده ویرمی بها، وإن رمی عنه غیره بأمره أجزأه، والأول أفضل۔ وفي اللباب: ولو رمی بحصاتین إحداهما عن نفسه والأخری عن غیره جاز ویکره، والأولی أن یرمي أولا عن نفسه ثم عن غیره۔ (۶۰۲/۲، کتاب الحج، باب الإحرام، بیروت)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : مریض لا یستطیع الرمي توضع الحصاة في کفه لیرمی عنه غیره بأمره۔ کذا في محیط السرخسي في صفة الرمي۔

(۲۳۶/۱، کتاب المناسک، فصل في المتفرقات)

(۲) ما في ” البحر الرائق “ : لو رمی بحصاتین إحداهما عن نفسه والأخری عن غیره جاز ویکره، والأولی أن یرمي أولا عن نفسه ثم عن غیره۔ (۶۰۲/۲)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : وینبغي أن یکون النائب قد رمی عن نفسه، فإن لم یکن رمی عن نفسه فلیرم عن نفسه أولا الرمي کله، ثم یرمي عمن استنابه ۔۔۔۔۔۔ لو رمی حصاة عن نفسه وأخری عن الآخر جاز ویکره۔ (۱۶۶/۲۳)

اوپر تک سکرول کریں۔