رمی کے وقت کنکری آہستہ سے پھینکنا

مسئلہ:

بعض حجاج کرام رمی جمار کے وقت کنکری اتنی آہستہ پھینکتے ہیں کہ وہ کنکری جمرہ سے تین ہاتھ کی دوری پر گرتی ہے، اُن کا اس طرح رمی کرنا درست نہیں ہے، کیوں کہ رمی میں کنکری کا جمرہ کے قریب گرنا ضروری ہے، البتہ اگر کنکری جمرہ سے تین ہاتھ کے فاصلہ سے کم پر گری تو یہ جائز ہے، کیوں کہ تین ہاتھ کے فاصلہ سے کم کی دوری قریب ہے، بعید نہیں ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” البحر الرائق “ : لو رماها فوقعت قریبًا من الجمرة یکفیه ولو وقعت بعیدًا لم یجزه لأنه لم یعرف قربة۔ قال ابن نجیم رحمه الله تعالی: قدر القریب بثلاثة أذرع والبعید بما فوقها وقیل: القریب ما دون الثلاثة۔ (۶۰۲/۲)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ولو وقعت علی ظهر رجل أو جمل إن وقعت بنفسها بقرب الجمرة جاز، وإلا لا، وثلاثة أذرع بعید وما دونه قریب۔

(۵۳۱/۳، مطلب في رمي جمرة العقبة)

ما في ” حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح “ : (إن سقطت علی سننها ذلک أجزاه) أي إن وقعت بقرب الجمرة وإلا لا، وثلاثة أذرع بعید وما دونها قریب۔

(ص:۷۳۶، فصل في کیفیة ترتیب أفعال الحج)

اوپر تک سکرول کریں۔