مسئلہ:
بعض لوگ قیمت ادھار رکھ کر جانور لیتے ہیں، اور اس کی قربانی کرتے ہیں، ان کا اس طرح سے قربانی کرنا جائز ودرست ہے، کیوں کہ قیمت ادھار رکھ کر جانور لینے سے ملکیت ثابت ہوجاتی ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الهدایة “ : ویجوز البیع بثمن حال وموٴجل إذا کان الأجل معلومًا۔ (۲۱/۳)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (وصح بثمن حال) وهو الأصل (وموٴجل إلی معلوم) لئلا یفضي إلی النزاع۔ (۵۲/۷)
ما في ” فتح القدیر لإبن الهمام “ : یجوز البیع بثمن حال وموٴجل لإطلاق قوله تعالی: ﴿أحل الله البیع﴾ وما بثمن موٴجل بیع۔ وفي صحیح البخاري عن عائشة اشتری رسول الله ﷺ طعامًا من یهودي إلی أجل ورهنه درعًا له من حدید۔ (۲۴۲/۶)
(احسن الفتاوی:۵۱۳/۷)
