اجتماعی قربانی میں رقم بچ جائے

مسئلہ:

اگر اجتماعی قربانی میں قربانی کرنے کے بعد کچھ رقم بچ جائے، تو اجتماعی قربانی کا انتظام کرنے والے اداروں پر بچی ہوئی زائد رقم کا واپس کرنا لازم ہوگا(۱)، البتہ اگر قربانی کا انتظام کرنے والے ادارے اجرت کے طور پر کچھ لینا چاہیں، تو ابتدا ہی سے متعین کرکے لے سکتے ہیں، بعد میں نہیں(۲)، یا پھر جن لوگوں کی طرف سے قربانی کی گئی ہے، اُن کی اجازت سے ، اُن کے بیان کردہ مصرف میں خرچ کرنے کے مجاز ہوں گے۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” السنن الکبری للبیهقي “ : ” لا یحل مال امرئ مسلم إلا بطیب نفس منه“۔

(۱۶۶/۶، کتاب الغصب، مشکوة المصابیح: ص/۲۵۵، السنن الدارقطني: ۲۲/۳، کتاب البیوع، رقم الحدیث:۲۸۶۲، المسند للإمام أحمد بن حنبل: ۴۰۰/۱۵، رقم الحدیث:۲۰۹۸۰، جمع الجوامع:۷/۹، رقم الحدیث:۲۶۷۵۹، شعب الإیمان للبیهقي:۳۸۷/۴، رقم الحدیث: ۵۴۹۲)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : لا یجوز التصرف في مال غیره بلا إذنه۔(۲۹۱/۹، کتاب الغصب، مطلب فیما یجوز من التصرف بمال الغیر)

ما في ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : لا یجوز لأحد أن یتصرف في ملک الغیر بلا إذنه۔ (۹۶/۱، المادة:۹۶)

(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وشرطها: کون الأجرة والمنفعة معلومتین، لأن جهالتهما تفضي إلی المنازعة۔

(۷/۹، کتاب الإجارة، الفتاوی الهندیة: ۴۱۱/۴، کتاب الإجارة، الباب الأول في تفسیر الإجارة)

ما في ” درر الحکام “ : شرائط الصحة أنواع: ۔۔۔۔۔ النوع الثاني تعیین الأجرة۔(۴۹۵/۱-۴۹۶، کتاب الإجارة، الفصل الثاني في شروط انعقاد الإجارة)

ما في ” قواعد الفقه “ : ” جهالة المعقود علیه تفسد العقد “۔ (ص:۷۵)

اوپر تک سکرول کریں۔