مسئلہ:
عقیقہ زندگی میں کیا جاتا ہے، مرنے کے بعد عقیقہ کا مستحب ہونا ثابت نہیں ہے(۱)، اگر مردہ بچہ کے عقیقہ کو مستحب نہ سمجھا جائے ، محض شفاعت کی امید اور مغفرت کی لالچ سے کردیا جائے، تو گنجایش معلوم ہوتی ہے(۲)، جیسے کسی نے حج نہیں کیا اور بلا وصیت مرگیا، اور وارث نے اس کی مغفرت کی امید پر اپنے خرچ سے حج بدل کیا ، تو امید ہے کہ حق تعالیٰ قبول فرمائے(۳)، اِس صورت میں عقیقہ کا جانور مستقل ہو، احتیاطاً قربانی کے جانور میں شرکت نہ کرے۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” اعلاء السنن “ : عن بریدة أن النبي ﷺ قال: ” العقیقة لسبع أو أربع عشرة أو إحدی وعشرین“۔ رواه الطبراني۔ (۱۳۱/۱۷)
ما في ” فیض الباري “ : ان الغلام إذا لم یعق عنه ، فمات لم یشفع لوالدیه، ثم أن الترمذي أجاز بها إلی یوم إحدی وعشرین ، قلت: بل یجوز إلی أن یموت لما رأیت في بعض الروایات أن النبي ﷺ عقّ عن نفسه بنفسه۔ (۶۴۸/۵)
(۲)( فتاوی دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۴۱۸۳۹)
(۳) ما في ” الشامیة “ : لو مات رجل بعد وجوب الحج ولم یوص به فحج رجل عنه، أو حج عن أبیه أو أمه عن حجة الإسلام من غیر وصیة، قال أبو حنیفة: یجزیه إن شاء الله۔(۱۷/۴)
(۴) ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : ومن معاني الاحتیاط لغة: الأخذ في الأمور بالأحزم والأوثق وبمعنی المحاذرة، ومنه القول السائر: أوسط الرأي الإحتیاط، وبمعنی الاحتراز من الخطأ واتقائه۔ (۱۰۰/۲)
(فتاویٰ رحیمیه:۶۲/۱۰)
