دو بھائیوں کی شادی ایک ساتھ کرنا کیسا ہے؟

مسئلہ:

بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ جب دو بھائیوں کی شادی ایک ساتھ کی جاتی ہے، تو ایسی شادی جلدی ختم ہوجاتی ہے ، اور اپنے اِس قول کی تائید میں وہ اپنا مشاہدہ اور تجربہ بھی بیان کرتے ہیں، اُن لوگوں کی نہ یہ بات صحیح ہے اور نہ ہی اُن کا مشاہدہ اور تجربہ صحیح ہے، بلکہ یہ محض ایک وہم ہے، شادی ختم ہونے کی وجوہات کچھ اور ہوتی ہیں، ضرورت ہے کہ اُن وجوہات کو معلوم کیا جائے، او راُن سے اپنے آپ کو بچائیں، تو ان شاء اللہ تعالیٰ شادی جلدی ختم نہ ہوگی، بلکہ زوجین کی زندگی بھرشادی باقی رہے گی، اور یہی شریعت کا مقصود بھی ہے کہ شادی زندگی بھر باقی رہے، ختم نہ ہو۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” سنن ابن ماجه “ : عن أنس بن مالک أن المغیرة بن شعبة أراد أن یتزوج امرأة فقال له النبي ﷺ: ” اذهب فانظر إلیها فإنه أحری أن یوٴدم بینکما “۔

(ص:۱۳۴، أبواب النکاح، باب النظر إلی المرأة إذا أراد أن یتزوجها)

ما في ” شروح ابن ماجه “ : قوله: (فإنه أحری) أي أقرب وأنسب وأولی، وقوله: (أن یوٴدم بینکما)، قال ابن الملک: یقال: أدم الله بینکما یأدم أدما بالسکون أي أصلح وآلف۔ ۔۔۔۔۔۔ أي یوقع الأدم بینکما یعني یکون بینکما الألفة والمحبة، لأن تزوجها إذا کان بعد معرفة فلا یکون بعدها ندامة۔

(۷۳۷/۱، کتاب النکاح، باب النظر إلی المرأة إذا أراد أن یتزوجها، تحت رقم الحدیث:۱۸۶۵)

ما في ” سنن أبي داود “ : عن أبي هریرة عن النبي ﷺ قال: ” تنکح النساء لأربع ؛ لمالها ولحسبها ولجمالها ولدینها، فاظفر بذات الدین تربت یداک “۔

(ص:۲۷۹۔۲۸۰، کتاب النکاح، باب ما یؤمر به من تزوج ذات الدین، مشکوة المصابیح:ص/۲۶۷، کتاب النکاح، الفصل الأول، رقم الحدیث:۳۰۸۲)

ما في ” معجم الأوسط للطبراني “ : عن ابراهیم بن أبي علبة قال: سمعت أنس بن مالک یقول: سمعت النبي ﷺ یقول: ” من تزوج امرأة لعزّها لم یزده الله إلا ذُلا، ومن تزوجها لمالها لم یزده الله إلا فقرًا، ومن تزوجها لحسبها لم یزده الله إلا دناءة، ومن تزوج امرأة لم یتزوجها إلا لیغض بصره أو لیحصن فرجه أو یصل رحمه بارک الله له فیها وبارک لها فیه “۔

(۱۸/۲، من اسمه ابراهیم ، رقم الحدیث:۲۳۴۲، مرقاة المفاتیح:۲۴۰/۶، تحت رقم الحدیث:۳۰۸۲، فتاوی شامیة:۵۸/۴، کتاب النکاح، مطلب کثیرا ما یتساهل في إطلاق المستحب علی السنة)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ : ۴۳۲۵۹)

اوپر تک سکرول کریں۔