دولہا دولہن کی گاڑی کی تزیین

مسئلہ:

آج کل شادیوں کے موقعوں پر بعض مسلم گھرانے کے لوگ دولہا دولہن کی گاڑی کو قسمہا قسم کے پھولوں اور رنگ برنگی رِبنوں کے ذریعہ سجا سنوار کر لاتے ہیں، یہ ایک غیر ثابت اور قابلِ ترک رسم ہے(۱)، اور نصاریٰ کا طریقہ ہے، اِس سے بچنا ضروری ہے، اگر اس کو ضروری اور سنت نہ سمجھیں تب بھی بیکار اور بے ضرورت ہونے کی وجہ سے قابلِ ترک ہے(۲)، حدیث شریف میں آں حضورﷺ نے غیر قوموں کی مخصوص تہذیب وثقافت اختیار کرنے سے منع فرمایاہے۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) (فتاوی محمودیه  : ۲۱۰/۱۱۔۲۱۱، کفایت المفتی:۱۵۵/۵)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿أفحسبتم أنما خلقناکم عبثًا وأنکم إلینا لا ترجعون﴾۔(سورة المؤمنون: ۱۱۵)

ما في ” جمع الجوامع “ : قوله ﷺ : ” من حسن إسلام المرء ترکه ما لا یعنیه “۔(۳۹۳/۴، رقم الحدیث: ۲۰۰۰۷)

(۳)ما في ” سنن أبي داود “ : قوله ﷺ: ”من تشبه بقوم فهو منهم“۔(ص:۵۵۹،کتاب اللباس،باب لباس الشهرة، تکملة فتح الملهم:۷۷/۱۰،کتاب اللباس والزینة)

ما في ” صحیح البخاري “ : ” أبغض الناس إلی الله ثلاثة: ملحد في الحرم ومبتغ في الإسلام سنة الجاهلیة، ومطلب دم امرئ مسلم بغیر حق لیهریق دمه “۔

(۱۰۱۶/۲، مشکوة المصابیح: ص/۱۵۰، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، کنزالعمال:۱۷/۱۶، رقم الحدیث:۴۳۸۲۶)

(فتاویٰ دار العلوم زکریا:۶۴۳/۳۔۶۴۴)

اوپر تک سکرول کریں۔