مسئلہ:
بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر کسی عورت کا دودھ، شیر خواربچہ کے کان میں ٹپکایا جائے، تو اس سے بھی حرمتِ رضاعت ثابت ہوتی ہے، اُن کا یہ خیال غلط ہے، صحیح بات یہ ہے کہ حرمتِ رضاعت کے ثابت ہونے کے لیے بچہ کا مدتِ رضاعت ، یعنی صاحبین کے قول کے مطابق دوسال اور امام صاحب کے قول کے مطابق ڈھائی سال کے اندر، کسی عورت کا دودھ پینا ضروری ہے، محض کان میں دودھ کے ٹپکانے سے حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” البحر الرائق “ : قال ابن نجیم: قیدنا بالفم والأنف لیخرج ما إذا وصل بالإقطار في الأذن۔ (۳۸۷/۳، کتاب الرضاع)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ولا یثبت بالإقطار في الأذن ۔۔۔۔۔۔ وإن وصل إلی الجوف والدماغ۔ (۳۴۴/۱، کتاب الرضاع)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : هو مص ثدي آدمیة ۔۔۔۔۔ في وقت مخصوص هو حولان ونصف عنده وحولان فقط عندهما وهو الأصح، وبه یفتی، کما في تصحیح القدوري عن العون۔ (۳۹۳/۴۔۳۹۴، کتاب الرضاع)
ما في ” البحر الرائق “ : هو مص الرضیع من ثدي الآدمیة في وقت مخصوص أي وصول اللبن من ثدي المرأة إلی جوف الصغیر من فمه أو أنفه في مدة الرضاع۔
(۳۸۶/۳، کتاب الرضاع، هدایه:۳۵۰/۱، کتاب الرضاع)
(امداد الفتاویٰ : ۳۳۵/۲ ، خیر الفتاویٰ : ۴۸۶/۴)
