مسئلہ:
بعض لوگوں کو معلوم رہتا ہے کہ فلاں شخص چور ہے، لوگوں کی چیزیں چُرا کر لاتا ہے، اور اُنہیں فروخت کرتا ہے، مگر چوں کہ یہ چیزیں عام قیمت کے مقابلہ میں نہایت کم قیمت میں فروخت کی جاتی ہیں ، اس لیے وہ اس طرح کی چیزیں اُس سے خریدکر استعمال کرتے ہیں، اور یوں کہتے ہیں کہ ہم نے تو روپیہ دے کر خریدا ہے، اس لیے وہ ہمارے لیے حلال ہیں، اُن کا یہ استدلال صحیح نہیں ہے، کیوں کہ خرید وفروخت کے ذریعہ کسی چیز پر ملکیت ثابت ہونے اور اس کا استعمال حلال ہونے کے لیے شرعی ضابطہ یہ ہے کہ جس منقولہ چیز کو فروخت کیا جارہا ہے، اس پر فروخت کنندہ کی ملکیت وقبضہ ہو(۱)، جب کہ چور جس چیز کو فروخت کرتا ہے، اس پر نہ تو اس کی ملکیت ہوتی ہے اور نہ اس کے لیے اس کا استعمال حلال ہوتا ہے، اور نہ وہ اس کو بیچ سکتا ہے(۲)، بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ یہ چیز اصل مالک کو واپس کردے(۳)، تو بھلا خریدنے والے کے لیے اس چیز پر کیسے ملکیت حاصل ہوگی، اور اس کے لیے اس کا استعمال کس طرح حلال ہوگا؟ ہاں! اگر خریدنے والے کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ چیز چوری کی ہے، تو اس صورت میں اس کے لیے اس کا خریدنا اور استعمال کرنا جائز ہوگا، لیکن یہ حکم بھی اس لیے ہے کہ اس کو چوری کا علم نہیں ہے۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : شروط: (ومنها) أن یکون المبیع ملک البائع فیما یبیعه لنفسه فلا ینعقد بیع ما لیس مملوکًا۔ (۱۵/۹)
وفیه أیضًا: مذهب الحنفیة أنه لا یصح بیع المنقول قبل قبضه ولو کان من بائعه۔ (۱۲۴/۹)
(۲) ما في ” فیض القدیر “ : ” من اشتری سرقة وهو یعلم أنها سرقة فقد شرک في عارها وإثمها “۔ (۶۴/۶، رقم الحدیث: ۸۴۴۳)
ما في ” مجموعة الفتاوی لإبن تیمیة “ : فمن علمت أنه سرق مالا أو خانه في أمانته أو غصبه فأخذه من المغصوب قهرًا بغیر حق لم یجز لي أن آخذه منه، لا بطریق الهبة، ولا بطریق المعاوضة، ولا وفاء عن أجرة، ولا ثمن مبیع، ولا وفاء عن قرض، فإن هذا عین مال ذلک المظلوم۔ (۱۷۸/۲۹، ط: دار الوفاء، المنصورة)
(۳) ما في ” الشامیة “ : والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده علیهم۔(۲۲۳/۷، مطلب فیمن ورث مالا حراما، دیوبند)
(۴) ما في ” الشامیة “ : قوله: (والحرمة تتعدد الخ) ۔۔۔۔۔۔ وما نقل عن بعض الحنفیة من أن الحرام لا یتعدی ذمتین، سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول علی ما إذا لم یعلم بذلک۔ (۲۲۳/۷، مطلب: الحرمة تتعدد، دیوبند)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : الحرام ینتقل، فلو دخل بأمان وأخذ مال حربي ۔۔۔۔۔ الحرمة تتعدد مع العلم بها إلا في حق الإرث ۔ الخ ۔ وفي الشامیة: قوله: (الحرام ینتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأیدي وتبدلت الأملاک۔(۲۲۲/۷۔۲۲۳، قبیل مطلب: البیع الفاسد لا یطیب ویطیب للمشتری فیه، دیوبند)
(فتاوی محمودیہ : ۸۶/۱۶)
