حرام آمدنی والے گاہک سے خرید وفروخت

مسئلہ:

اگر دکاندار کو معلوم ہوکہ گاہک کی کل یا اکثر آمدنی حرام ہے، تو وہ اس کے ہاتھ اپنی کسی چیز کو فروخت تو کرسکتا ہے، مگر حرام مال سے قیمت وصول کرنا اس کے لیے جائز نہیں ، بلکہ وہ خریدار سے حلال مال کا مطالبہ کرے گا، یہ حکم اُس وقت ہے جب کہ دکاندار کو پہلے سے معلوم ہوکہ خریدار کی کل یا اکثر آمدنی حرام ہے، اور اگر لاعلمی میں اس کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کی، تو اس کی قیمت لینا جائز ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : الحرام ینتقل، فلو دخل بأمان وأخذ مال حربي بلا رضاه وأخرجه إلینا ملکه وصحّ بیعه، لکن لا یطیب له ولا للمشتري منه ۔۔۔۔۔۔ وفي حظر ” الأشباه “: الحرمة تتعدد مع العلم بها ۔ الدر المختار ۔ وفي الشامیة: قال ابن عابدین الشامي رحمه الله تعالی: قوله: (الحرمة تتعدد الخ) نقل الحموي عن سیدي عبد الوهاب الشعراني أنه قال في کتابه المنن: وما نقل عن بعض الحنفیة من أن الحرام لایتعدی ذمتین، سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول علی ما إذا لم یعلم بذلک، أما لو رأی المکاس مثلا یأخذ من أحد شیئًا من المکس ثم یعطیه آخر ثم یأخذ من ذلک الآخر آخر فهو حرام۔(۲۲۲/۷۔۲۲۳، باب البیع الفاسد، مطلب: الحرمة تتعدد)

(حاشیہ فتاوی محمودیہ :۴۱۴/۱۸)

اوپر تک سکرول کریں۔