دلال کا بائع اور مشتری سے کمیشن لینا

مسئلہ:

زمین یا کسی اور چیز کی خرید وفروخت میں دلال کا بائع اور مشتری دونوں سے کمیشن لینا، اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ دلال – بائع اور مشتری میں سے کسی کا وکیل بن کر مبیع کی خرید وفروخت نہ کرے، بلکہ دونوں کے درمیان سعی وکوشش اور دوڑ دھوپ کرے، اور پھر وہ دونوں خود آپس میں خرید وفروخت کریں، تو ایسی صورت میں چوں کہ عرف ورَواج دونوں سے کمیشن لینے کا ہے، اس لیے اس صورت میں دلال کے لیے دونوں سے کمیشن لینا جائزاور درست ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الشامیة “ : تتمة: قال في التاترخانیة: وفي الدلال والسمسار یجب أجر المثل، وما تواضعوا علیه أن في کل عشرة دنانیر کذا فذاک حرام علیهم، وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به، وإن کان في الأصل فاسدًا لکثرة التعامل، وکثیر من هذا غیر جائز، فجوزوه لحاجة الناس إلیه۔

(۷۵/۹، کتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، مطلب في أجرة الدلال)

ما في ” خلاصة الفتاوی “ : وفي الأصل أجرة السمسار والمنادي والحمامي والصکاک وما لا تقدیر فیه للوقت ولا مقدار لما یستحق بالعقد، لکن للناس فیه حاجة جاز، وإن کان في الأصل فاسدًا۔

(۱۱۶/۳، کتاب الإجارات، الفصل الثاني في صحة الإجارة وفسادها، جنس آخر في المتفرقات الخ، الفتاوی الهندیة:۴۵۰/۴۔۴۵۱، کتاب الإجارة، الباب السادس عشر، مطلب الاستئجار علی الأفعال المباحة، المبسوط للسرخسي:۱۲۸/۱۵، کتاب الإجارات، باب السمسار)

(فتاویٰ محمودیہ : ۶۱۷/۱۶ ، فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ : ۴۳۰۶۵)

اوپر تک سکرول کریں۔