گیس سلینڈر فروخت کرنا

مسئلہ:

حکومت ِ وقت نے اِس سال گیس صارفین کے لیے یہ قانون نافذ کیا ہے کہ ایک صارف (Consumer)کو پورے سال میں صرف ۹/گیس سلینڈر رعایتی دام میں دیئے جائیں گے، اگر کسی صارف کو اس سے زائد کی ضرورت ہو تو وہ پوری قیمت ادا کرکے حاصل کرسکتا ہے، اب بعض وہ صارفین جنہیں ۹/ گیس سلنڈروں کی ضرورت نہیں، اُن کی طرف سے یہ استفسار ہورہا ہے کہ – کیا ہم اپنے رعایتی گیس سلینڈر حاصل کرکے دوسرے ضرورتمند کو زائد قیمت میں فروخت کرسکتے ہیں؟ تو جواباً عرض ہے کہ – اگر صارف (Consumer)اپنا رعایتی سلینڈر حاصل کرکے اپنے قبضہ میں کرلے، اور پھر ضرورتمند کو زائد قیمت میں فروخت کردے، اور اس طرح فروخت کرنا حکومتی قانون کی خلاف ورزی نہ ہو، تو شرعاً اس کی اجازت ہوگی، ورنہ نہیں۔

 الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : فالإیجاب والقبول وهما رکنه، وشرطه أهلیة المتعاقدین، ومحله المال، وحکمه ثبوت الملک ۔ در مختار ۔ وفي الشامیة: قال الشامي رحمه الله تعالی: قوله: (وحکمه ثبوت الملک) أي في البدلین لکل منهما في البدل، وهذا حکمه الأصلي، والتابع وجوب تسلیم المبیع والثمن۔

(۱۰/۷-۱۲، کتاب البیوع، مطلب شرائط البیع أنواع أربعة)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : وقال الحنفیة: قبض المنقول یکون بالتناول بالید بالتخلیة علی وجه التمکین، جاء في مجلة الأحکام العدلیة: تسلیم العروض یکون بإعطائها لید المشتري أو بوضعها عنده، أو بإعطاء الإذن له بالقبض مع إرائتها له۔ (۲۶۱/۳۲، قبض، کیفیة قبض المنقول)

(۲) ما في ” بدائع الصنائع “ : أما تفسیره فقد ذکرناه في أول الکتاب وهو أنه بیع بمثل الثمن الأول مع زیادة، وأما شرائطه ما قیمتها ما ذکرنا، وهو أن یکون الثمن الأول معلومًا للمشتري الثاني، لأن المرابحة بیع الثمن الأول مع زیادة ربح، والعلم بالثمن الأول شرط صحة البیاعات کلها۔(۱۷۳/۷۔۱۷۴، الفتاوی الهندیة:۱۶۰/۳)

(۳)ما في ” جامع الترمذي “ :عن حذیفة قال:قال رسول الله ﷺ ”لا ینبغي للمؤمن أن یُذِلَّ نفسه“۔(۵۱/۲، أبواب الفتن، باب بعد باب ما جاء في النهي عن سبّ الریاح)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ :۳۶۹۰۴)

اوپر تک سکرول کریں۔