مسئلہ:
اگر کوئی شخص اپنی بنیادی ضرورتوں یعنی روٹی، کپڑا اور مکان کو پورا کرنے کے لیے کسی سے قرضِ حسنہ نہ پائے، اور اِس مجبوری کی حالت میں کسی سے سودی قرض لے، اور پھر اُس قرض کی رقم سے کوئی جائز کاروبار کرکے ذاتی زمین خریدے، مکان بنالے، یا دوسری ضرورت کی چیزیں حاصل کرلیں، تو یہ تمام چیزیں اُس کی ملک ہیں، اور حلال ہیں،کیوں کہ بوقتِ ضر ورت (جس کی تعریف اوپر گزرچکی) سود پر قرض لینے کی گنجائش ہے(۱)، اور بلا ضرورت سودی قرض لینا حرام ہے(۲)، مگر اِس صورت میں بھی محض سود دینا حرام ہے، نہ کہ وہ رقم جو قرض پر لی گئی، اور باقی ماندہ مال میں یہ حرمت سرایت نہیں ہوگی، بخلاف سود لینے کے، کیوں کہ سود لینا ہر حال میں حرام ہے، اور اس سے حاصل آمدنی بھی حرام ہوتی ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” البحر الرائق “ : وفي القنیة من الکراهیة: یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح۔ (۲۱۱/۶، کتاب البیع، باب الربا)
(۲) ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن جابر رضي الله عنه قال: ” لعن رسول الله ﷺ آکل الربوا وموکله وکاتبه وشاهدیه، وقال: هم سواء “۔
(۲۷/۲، کتاب المساقاة والمزارعة، باب لعن آکل الربا وموکله، رقم الحدیث: ۱۵۹۷)
ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أبي هریرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: ” الربوا سبعون جزءً ا أیسرها أن ینکح الرجلُ أمه “۔(ص:۲۴۶)
(امداد الفتاویٰ : ۱۷۰/۳، فتاویٰ محمودیہ : ۴۰۴/۲۴، ط؛ میرٹھ)
