مسئلہ:
بعض سرکاری ادارے اپنے ملازمین کو ہاوٴس ریکوزیشن (House Requisition)، یعنی فراہمی ٴ مکان کے نام سے ماہوار رقم دیتے ہیں، تاکہ وہ اپنے لیے اپنی پسند کا مکان لے کر اپنی فیملی کو ساتھ رکھ سکیں، یہ رقم کافی زیادہ ہوتی ہے، سرکاری ادارہ یہ رقم ملازم کو نہیں دیتا، بلکہ مالک ِ مکان کے بینک اکاوٴنٹ میں ٹرانسفرکردیتا ہے، اور ملازم کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، ملازم مالک ِ مکان سے ڈیل کرتا ہے کہ آپ کے مکان کا عام حالات میں جو کرایہ بنتا ہے، اتنا آپ رکھ لیں گے، اور بقیہ مجھے واپس کردیں گے، مثلاً سرکاری ادارہ کو مکان کا کرایہ 17,000بتایا جاتا ہے، جب کہ اس کا کرایہ صرف 10,000ہوتا ہے، سرکاری ادارہ پورے17,000مالک ِمکان کے بینک اکاوٴنٹ میں ٹرانسفر کردیتا ہے، اب مالک ِ مکان اس میں سے 10,000رکھ لیتا ہے، اور بقیہ 7,000روپئے ملازم کو دے دیتا ہے، ملازم کا مالک ِ مکان کے ساتھ یہ ساز باز کرنا، خلافِ قانون طریقہ اختیار کرنا، اور سرکاری ادارہ سے چھپا کر اس طرح لین دین کرنا شریعتِ مطہرہ کی نظر میں جائز نہیں ہے۔(۱)
ہاں! البتہ اگر سرکاری ادارہ فراہمی ٴ مکان کے لیے اپنے ملازم کو ہی ایک متعین رقم دیدے، اور یہ کہے کہ آپ کو اختیار ہے، چاہو تو اتنی رقم کے بقدر کرایہ کا مکان لو، یا اس سے زیادہ ، یا اس سے کم، یا لو ہی مت، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں، تو اس صورت میں یہ رقم ملازم کی ملک ہے، اب اس میں وہ جو تصرف چاہے کرسکتا ہے۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یا أیها الذین اٰمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل إلا أن تکون تجارة عن تراض منکم﴾۔ (سورة النساء:۲۹)
ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال النبي ﷺ: ” ألا لا تظلموا، ألا لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منه “۔ رواه البیهقي في شعب الإیمان والدار قطني في المجتبی۔ (ص:۲۵۵، کتاب البیوع، باب الغصب والعاریة، الفصل الثاني)
ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن أبي هریرة – رضي الله تعالی عنه – أن رسول الله ﷺ قال: ”من حمل علینا السلاح فلیس منا، ومن غشّنا فلیس منا “۔
(۷۰/۱، کتاب الإیمان، باب قول النبي ﷺ من غشنا فلیس منا، جامع الترمذي:۲۴۵/۱، باب ما جاء في کراهیة الغش في البیوع)
(۲) ما في ” شرح المجلة لسلیم رستم باز “ : کل یتصرف في ملکه کیف شاء۔ (ص:۶۵۴، رقم المادة:۱۱۹۲)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ :۴۳۸۸۶)
