مسئلہ:
آج کل گنے کی کٹائی ہورہی ہے، جب کاشتکار مِل کو گنا دیتا ہے، تو مِل اس کا وزن کرکے کاشتکار کو ایک رسید دیتی ہے، جسے CPRکہا جاتا ہے، اس رسید پر گنے کی قیمت درج ہوتی ہے، یہ ایک قسم کا چیک یا بِل ہوتا ہے، جسے دکھا کر مِل یا بینک سے رقم وصول کی جاسکتی ہے، جب مِل یہ رقم وقت پر ادا نہیں کرتی، اور کاشتکار کو فوری رقم کی ضرورت ہوتی ہے، تو اس CPRرسید کی خرید وفروخت کی جاتی ہے،رسید خریدنے والا کاشتکار کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ، مِل کو دیئے گئے گنے کے فی مَن ریٹ میں 5 سے12روپئے کی کٹوتی کرکے خریدتا ہے، مثلاً کاشتکار نے مِل کو 100 مَن گنا 170روپئے فی مَن کے حساب سے دیا، تو CPRپر 17,000قیمت درج ہوتی ہے، جسے خریدار 16,500 میں خریدتا ہے، کمی بیشی کے ساتھ چیک یا بِل کی یہ خرید وفروخت شرعاً جائز نہیں ہے، خریدنے والا اور بیچنے والا دونوں گناہگار ہیں، کیوں کہ خریدنے والا سود لینے اور بیچنے والا سود دینے کا مرتکب ہوا، البتہ اس کے جواز کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ کاشتکار CPRمیں درج قیمت کے بقدر کسی سے قرض لے لے، اور پھر اُسے یہ CPRرسید دیکر اپنے قرض کی وصولی کا وکیل بنادے، اور اس بات کا بھی کہ وہ یہ قرض وصول کرکے اپنے قرض میں منہا کرلے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿أحلّ اللّٰه البیع وحرّم الربٰوا﴾۔ (سورة البقرة :۲۷۵)
ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن جابر قال: ” لعن رسول الله ﷺ آکل الربوا وموکله وکاتبه وشاهدیه، وقال: هم سواء “ ۔
(۲۷/۲، کتاب المساقات والمزارعة، باب لعن آکل الربا وموکله)
ما في ” موسوعة فتح الملهم “ : قوله : (وموکله) یعني: الذي یوٴدي الربا إلی غیره، فإثم عقد الربا والتعامل به سواء في کل من الآخذ والمعطي، ثم أخذ الربا أشدّ من الإعطاء لما فیه من التمتع بالحرام۔ (۵۷۴/۷، تحت رقم الحدیث:۴۰۶۸)
ما في ” صحیح البخاري “ : عن عون بن أبي جحیفة قال: رأیتُ أبي اشتری عبدًا حجامًا فأمر بمحاجمه فکُسرتْ فسألته، فقال: ” نهي النبي ﷺ عن ثمن الکلب وثمن الدم ونهی عن الواشمة والموشومة، وآکل الربا وموکله، ولعن المصور “۔ (۲۸۰/۱، کتاب البیوع، باب موکل الربا، رقم الحدیث:۲۰۸۶)
ما في ” عمدة القاري “ : والموکل المطعم والآکل الآخذ، وإنما سوی في الإثم بینهما وإن کان أحدهما رابحًا والآخر خاسرًا، لأنهما في فعل الحرام شریکان متعاونان۔
(۱۴/۲۱، کتاب العدة، باب مهر البغي والنکاح الفاسد، تحت رقم الحدیث:۵۳۴۷)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : والحوالة في الاصطلاح: نقل الدین من ذمة إلی ذمة، فمتی تم الإیجاب والقبول تحمیلا وتحملا لأداء الدین من المحتمل إلی الدائن بین اثنین من الثلاثة الأطراف المعینة، الدائن والمدین والملتزم بالأداء مع الاستیفاء لسائر الشرائط التي ستأتي، فقد تم هذا النقل من الوجهة الشرعیة۔(۱۶۹/۱۸، حوالة)
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : (الحوالة) هي لغة النقل، وشرعًا: نقل الدین من ذمة المحیل إلی ذمة المحتال علیه۔ (۵/۸، کتاب الحوالة)
(فتاویٰ دار العلوم ، رقم الفتویٰ : ۴۳۵۴۱)
