مسئلہ:
دین اسلام کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ یہ دین ہم تک اساتذہ کے ذریعہ پہنچا ہے، اور یہی چیز دینِ اسلام کی حفاظت کی ذمہ دار ہے(۱)، عبد اللہ ابن مبارک رحمہ اللہ نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: ” اگر دین میں سند نہ ہوتی تو کوئی بھی شخص اسلام کے متعلق جو چاہتا کہہ دیتا“(۲) ، اور علامہ ابن حجر مکی رحمہ اللہ نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے کہ ” اگر کوئی شخص فقہ کی کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے ، اس نے کسی استاذ سے علم فقہ حاصل نہیں کیا، اور اپنے مطالعہ کے زور پر فتویٰ دیتا ہے تو اس کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے ، کیوں کہ وہ عامی جاہل ہے، اسے کچھ معلوم نہیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔“(۳)
موجودہ دور میں جہاں معاشرہ کی مذہبی اَقدار کو کم کیا جارہا ہے ، وہیں والدین اور اسلامی علوم کے اساتذہ کی عزت واحترام کو بھی گھٹایا جارہا ہے، اسکولوں میں بچوں کو اساتذہ کی بجائے کمپیوٹر سے پڑھانے کا رجحان بڑھ رہا ہے، اور اب یہ رجحان اسلامی علوم میں مُنعکِس ہونا شروع ہوچکا ہے، کہ قرآن کریم حفظ کرنے والوں کے لیے کمپیوٹر پروگرام نکل آئے ہیں، لیکن یہ سب اسی سازش کا حصہ ہے ، جسے ابھی ابھی آپ کے گوش گزار کردیا گیا، لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ اس سازش کا حصہ نہ بنیں، کیوں کہ بچے استاذ کے بغیر محض کمپیوٹر کے ذریعہ کبھی بھی ٹھوس ، معتبر اور مستند علم حاصل نہیں کرسکتے، اسلامی تعلیم اساتذہ سے ہی دلوائیں(۴)، ہاں! البتہ کمپیوٹر پر مطالعہ وتحقیق کا کام کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔(۵)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ مر بمجلسین في مسجده فقال: ” کلاهما علی خیر وأحدهما أفضل من صاحبه، أما هوٴلاء فیدعون الله ویرغبون إلیه، فإن شاء أعطاهم وإن شاء منعهم، وأما هوٴلاء فیتعلمون الفقه أو العلم ویعلمون الجاهل فهم أفضل، وإنما بعثت معلمًا، ثم جلس فیهم “۔
(ص:۳۶، کتاب العلم، الفصل الثالث، رقم الحدیث:۲۵۷، سنن ابن ماجه: ص/۲۱، مقدمة، قبیل باب من بلغ علمًا، رقم الحدیث: ۲۲۹)
ما في ” الإسناد من الدین “ : ومن أهم هذه الخصائص للأمة المحمدیة خصیصةُ (الإسناد) في تبلیغ الشریعة المطهرة وعلومها من السلف إلی الخلف۔
(ص:۱۱، مصنفه للشیخ عبد الفتاح أبوغده، مکتب المطبوعات الإسلامیة بحلب)
(۲) ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن عبدان بن عثمان یقول: سمعت عبد الله بن مبارک یقول: ”الإسناد من الدین ولولا الاسناد لقال من شاء ما شاء “۔
(۱۲/۱، باب بیان أن الإسناد من الدین الخ)
(۳) ما في ” شرح عقود رسم المفتي “ : وقد رأیت في فتاوی العلامة ابن حجر: سئل في شخص یقرأ ویطالع في الکتب الفقهیة بنفسه ولم یکن له شیخ ویفتی ویعتمد علی مطالعته في الکتب فهل یجوز له ذلک، أم لا؟ فأجاب بقوله: لا یجوز له الإفتاء بوجه من الوجوه، لأنه عامي جاهل، لا یدري ما یقول؟
(ص:۷۵، من یفتي بمطالعة الکتب بغیر التمرّن علی شیخ)
(۴) ما في ” المقاصد الشرعیة للخادمي “ : إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرمًا، وتکون واجبة إذا کان المقصد واجبًا۔
(ص:۴۶، المطلب الثامن صلة المقاصد بالذرائع سدًا وفتحًا)
ما في ” بدائع الصنائع “ : الوسیلة إلی الحرام حرام۔ (۶۶۸/۱)
(۵) ما في ” القواعد الفقهیة “ : الأصل أن تزول الأحکام بزوال عللها۔ (۱۷۶)
ما في ” قواعد الفقه “ : الأصل في الأشیاء الإباحة۔ (ص:۵۹)
