مسئلہ:
آج کل مختلف پروگراموں ، شادی بیاہ کے موقع پر آنے والے مہمانوں یا دلہے کو، پھولوں کا گلدستہ پیش کیا جاتا ہے، اور خود دلہے کے دوست واحباب، اعزا واقارب،اس گاڑی کو جس میں دلہا آتا ہے، اور دلہن رخصت ہوکر جاتی ہے، پھولوں سے سجانے کا اہتمام کرتے ہیں، شرعِ اسلامی میں اس کی کوئی اصل نہیں، بلکہ یہ غیر اسلامی تہذیب (یورپ) کی ایک رسم ہے، جس کی بلا سوچے سمجھے اندھی تقلید کی جاتی ہے، جو پیسہ ان کی خرید میں صرف ہوتا ہے وہ اِسراف ہے، اور شرعِ اسلامی میں اِسراف کی کوئی گنجائش نہیں، کیوں کہ مال اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، اسے اِس طرح ضائع کرنا شرعاً ناجائز ہے، بہتر یہ ہے کہ آنے والے مہمانوں یا دلہے کو کوئی ایسا تحفہ یا ہدیہ دیں، جو دیرپا اور پائیدار ہو، بوقتِ ضرورت ان کے کام آئے، اور فضول خرچی سے خالی ہو۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿ولا تبذّر تبذیرًا﴾۔ (سورة الإسراء:۲۷)
ما في ” التفسیر الکبیر للرازي “ : والتبذیر في اللغة إفساد المال وإنفاقه في السرف۔ (۳۲۸/۷)
ما في ” صحیح البخاري “ : عن المغیرة بن شعبة قال : قال النبي ﷺ: ” إن الله حرّم علیکم عقوقَ الأمهات، ووأد البنات، ومنعًا وهات، وکره لکم قیل وقال، وکثرة السؤال، وإضاعة المال “۔(۳۲۴/۱، کتاب في الاستقراض وأداء الدیون الخ، باب ما ینهی عن إضاعة المال)
ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله ﷺ: ” أبغض الناس إلی الله ثلاثة؛ ملحد في الحرم، ومبتغ في الإسلام سنة الجاهلیة، ومطّلب دم امرئ مسلم بغیر حقّ لیقریق دمه “۔ رواه البخاري۔ (ص:۲۷، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، الفصل الأول)
(فتاویٰ رحیمیہ :۱۶۱/۱)
