مسئلہ:
عمامہ باندھنا ہر مسلمان کے لیے مستحب ہے، اس سے مسلمانوں کا وقار بڑھتا ہے، غیروں پر ہیبت طاری ہوتی ہے، لیکن جب کوئی غیرِ عالم وحافظ عِمامہ باندھتا ہے، تو بعض لوگ اس پر یوں طعن کرتے ہیں کہ – بڑا عالم وحافظ بن گیا، جو عِمامہ باندھ رکھا ہے- اُن کا یہ طعن کرنا ، نادانی پر مبنی ہے، کہ عِمامہ کو عالم، حافظ کے ساتھ خاص کررہے ہیں، جب کہ عِمامہ عالم ، حافظ کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ ہر مسلمان کے لیے اس کا باندھنامستحب ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” سنن أبي داود “ : عن محمد بن علي بن رکانة عن أبیه أن رکانة صارع النبي ﷺ فصرعه النبي ﷺ، قال رکانة: وسمعت النبي ﷺ یقول: فرق ما بیننا وبین المشرکین العمائم علی القلانس۔(ص:۵۶۳۔۵۶۴، کتاب اللباس، الفصل الثالث، رقم الحدیث:۴۳۷۱)
ما في ” عمدة القاري “ : عن عثمان بن عمر عن الزبیر بن جوان عن رجل من الأنصار قال: جاء رجل إلی ابن عمر فقال: یا أبا عبد الرحمن! العِمامة سنة؟ فقا ل: نعم ۔۔۔۔۔ عن عبد الرحمن بن عدي البهراني عن أخیه عبد الأعلی بن عدي: أن رسول الله ﷺ دعا علي بن أبي طالب – رضي الله عنه – یوم غدیرخم فعممه وأرخی عذبة العمامة من خلفه، ثم قال: هکذا فاعتموا، فإن العمائم سیماء الإسلام، وهي الحاجز بین المسلمین والمشرکین۔ (۴۵۵/۲۱۔۴۵۶، کتاب اللباس، باب العمائم)
