مسئلہ:
بسا اوقات کوئی مسلم خاتون اچھی طبیبہ ہوتی ہے، وہ حلال آمدنی کے علاوہ اچھا وقت گزارنے اورمسلم خواتین کو علاج کی سہولت پہنچانے کے لیے دواخانہ قائم کرنا چاہتی ہے، تو اس کا شوہر اُسے اس سے منع کرتا ہے، اگرچہ شوہر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عورت کو کوئی ذریعہٴ معاش اختیار کرنے سے منع کرے، بالخصوص اس صورت میں جب کہ اس کی وجہ سے خود اس کے اور بچوں کے حقوق متاثر ہورہے ہوں ، لیکن اگر صورتِ حال ایسی نہ ہو تو شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کو اس کی اجازت دیدے، اور عورت شرعی پردہ کی مکمل رعایت کے ساتھ اس پیشہ کو اختیار کرے، کیوں کہ شریعت میں یہ بات مطلوب ہے کہ عورتوں کا علاج عورتیں ہی کریں، تاکہ مریض خواتین کو مردوں کے سامنے بے پردہ نہ ہونا پڑے، اور ایسا اسی وقت ممکن ہے جب کہ خواتین طبیبات موجود ہوں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” رد المحتار “ : والذي ینبغي تحریره أن یکون له منعها عن کل عمل یؤدي إلی تنقیص حقه أو ضرره أو إلی خروجها من بیتها، أما العمل الذي لا ضرر له فیه فلا وجه لمنعها عنه خصوصًا في حال غیبته من بیت، فإن ترک المرأة بلا عمل فی بیتها یؤدي إلی وساوس النفس والشیطان أو الاشتغال بما لا یعني من الأجانب والجیران۔
(۳۲۵/۵، کتاب الطلاق، باب النفقة، بیروت)
ما في ” البحر الرائق “ : وینبغي عدم تخصیص الغزل بل له أن یمنعها من الأعمال کلها المقتضیة للکسب، لأنها مستغنیة عنه لوجوب کفایتها علیه، ۔۔۔۔ وحیث أبحنا لها الخروج فإنما یباح بشرط عدم الزینة وتغییر الهیئة إلی ما لا یکون داعیة لنظر الرجال والاستمالة۔ (۳۳۲/۴، کتاب الطلاق، باب النفقة )
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یایها النبي قل لأزواجک وبنٰتک ونسآ الموٴمنین یدنین علیهنّ من جلابیبهنّ﴾۔ (سوة الأحزاب: ۵۹)
ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : في هذه الآیة دلالة علی أن المرأة الشابة مأمورة بستر وجهها عن الأجنبیین وإظهار الستر والعفاف عند الخروج لئلا یطمع أهل الریب فیهنّ۔ (۴۷۶/۳)
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : ینظر الطبیب إلی موضع مرضها بقدر الضرورة، إذ الضرورات تتقدر بقدرها، وکذا نظر قابلة وختان، وینبغي أن یعلم امرأة تداویها، لأن نظر الجنس إلی الجنس أخف۔ (۵۳۳/۹، کتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، بیروت)
(قرارداد اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا، اٹھارہواں سمینار ، ۲۰۰۹ء)
