مسئلہ:
بہت سے مسلمان خاندان ایسے ہیں، جن کے مرد حرام چیزوں کا کاروبار کرتے ہیں، اُن کے بیوی بچے اگرچہ اُن کے اِس کاروبار کو ناپسند کرتے ہیں، لیکن اُن کی پرورش بھی اسی آمدنی سے ہورہی ہوتی ہے، تو ایسی صورت میں بیویوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے شوہروں سے حرام کاروبار چھڑانے کی پوری کوشش کریں، لیکن اِس کوشش کے باوجود اگر وہ اس کاروبار کو نہ چھوڑیں، تو پھر اگر ان بیویوں کے لیے جائز طریقے سے اپنے اخراجات برداشت کرنا ممکن ہو، تو اس صورت میں ان کے لیے اپنے شوہروں کے حرام مال میں سے کھانا جائز نہیں ، لیکن اگر ان کے لیے اپنے اخراجات برداشت کرنا ممکن نہ ہو، تو اس صورت میں ان کے لیے اپنے شوہروں کے مال میں سے کھانا جائز ہے، اور حرام کھلانے کا گناہ ان کے شوہروں پر ہوگا(۱)، نابالغ اور چھوٹے بچوں کے لیے بھی یہی حکم ہے، اور حرام کھلانے کا گناہ باپ پر ہوگا، البتہ بالغ اور بڑی اولاد خود کماکر کھائیں، باپ کے حرام مال سے نہ کھائیں۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” رد المحتار “ : وفي جامع الجوامع “ : اشتری الزوج طعامًا أو کسوة من مال خبیث جاز للمرأة أکله ولبسها والإثم علی الزوج۔
(۲۳۰/۹، کتاب الغصب،مطلب شری دارا وسکنها فظهرت لوقف أویتیم الخ)
وفیه أیضًا: وفي الخانیة: امرأة زوجها في أرض الجور إذا أکلت من طعامه ولم یکن عینه غصبًا أو اشتری طعامًا أو کسوة من مال أصله لیس بطیب فهي في سعة من ذلک والإثم علی الزوج۔ (۴۷۱/۹، کتاب الحظر والإباحة، فصل في البیع، ط: دیوبند)
ما في ” الفتاوی الخانیة علی هامش الهندیة “ : امرأة زوجها في أرض الجور أو له مال یأخذه من قبل السلطان وهي تقول: لا أقعد معک في أرض الجور، قال الفقیه أبو بکر البلخي رحمه الله تعالی: إن أکلت من طعامه ولم یکن عین ذلک الطعام غصبًا فهي في سعة من أکله، وکذا لو اشتری لها طعامًا أو کسوة من مال لیس أصله بطیب فهي في سعة من تناول ذلک الطعام والثیاب ویکون الإثم علی الزوج۔(۴۰۲/۳، کتاب الحظر والإباحة)
(۲) ما في ” أحکام المال الحرام “ : فإذا کان المال الحرام في ید الوالد ینفق منه علی نفسه وأبنائه لغیر حاجة أو فقر، فإن الأب یکون آثمًا بهذا الإنفاق إذا وجد المال الحلال أو کان قادرًا علی تحصیله ۔۔۔۔ أما الأبناء ففي حکم انفاقهم من المال الحرام الذي عند الأب ینبغي التفریق بین حالتین: الأولی ؛ أن یکون الإبن غیر قادر علی تحصیل المال الحلال، إما لعجزه أو لصغر سنه وکانت نفقته واجبة علی أبیه ۔۔۔ فإن حکمه في الأخذ من هذا المال حکم المضطر إلی دفع الأذی عن نفسه بالمیتة ، فیجوز له أن یأخذ ما ینفقه علیه والده وأن ینتفع به مع إنکاره في قلبه لهذا الأمر إلی أن یصبح قادرًا علی الاعتماد علی نفسه في تحصیل الکسب الحلال أو أن یأتیه مال من مصدر حلال ۔۔۔ والثانیة: أن یکون الإبن قادرًا علی الاعتماد علی نفسه، والاستغناء عن والده وله قدرة علی تحصیل المال من مصدر حلال، فإنه یحرم علیه أن یقبل نفقة والده من المال الحرام لاستغنائه بنفسه عن هذا المال۔ (ص:۲۸۹۔۲۹۰، الفصل الرابع، المبحث الثاني، المطلب الأول، انفاق الأبناء من المال الحرام في ید الوالدین)
(فتاویٰ عثمانی :۱۲۶/۳، اسلام اور جدید معاشی مسائل :۵۲/۴)
