مسئلہ:
اگر کسی شخص کی کہیں دعوت ہو اور وہ اُس دعوت میں حاضر ہوکر کھانا کھارہا ہو، اِس درمیان اُس کا بچہ یا اُس سے متعلق کوئی شخص کسی ضرورت سے اُس کے پاس آئے ، تو وہ اپنے اس بچے یا متعلق شخص کو میزبان کی اجازت کے بغیر کھانے میں شریک نہیں کرسکتا، اور نہ دسترخوان کی کوئی چیز اُنہیں دے سکتا ہے، بعض مہمان ایسے موقع پر بڑی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں، جو بڑی اچھی صفت ہے، مگر اس کا موقع اپنا دسترخوان ہوتا ہے، نہ کہ دوسروں کا، اسی طرح بعض مہمان آپس میں ایک دوسرے کو کھانے کی ترغیب دیتے ہیں، حالانکہ وہ اِس کے مجاز نہیں ہوتے ہیں، لہٰذا ایسی باتوں سے بچنا چاہیے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : ولا یجوز لمن کان علی المائدة أن یعطي انسانًا دخل هناک لطلب انسان أو لحاجة ۔ کذا في فتاوی قاضیخان ۔ والصحیح في هذا أنه ینتظر إلی العرف والعادة دون التردّد ۔ کذا في الینابیع ۔ وکذا لا یدفع إلی ولد صاحب المائدة وعبده وکلبه وسنوره ۔ کذا في فتاوی قاضیخان ۔ الضیف إذا ناول من المائدة هرّة لصاحب الدار أو لغیره شیئًا من الخبز أو قلیلا من اللحم یجوز استحسانًا لأنه إذن عادة، ولو کان عندهم کلب لصاحب الدار أو لغیره لا یسعه أن یناوله شیئًا من اللحم أو الخبز إلا بإذن صاحب البیت لأنه لا إذن فیه عادة۔ (۳۴۴/۵، الباب الثاني عشر في الهدایا والضیافات)
ما في ” المحیط البرهاني “ : ولا یجوز للضیف أن یعطي من ذلک انساناً دخل علیهم لطلب انسان أو حاجة أخری لأنه لا تعامل فیه، وکذا لا ینبغي له أن یعطي سائلا شیئًا من الخبز، أو قلیلا من اللحم فلا بأس به، لأن فیه تعامل ، فکان الإذن به ثابتًا عادةً۔
(۱۱۰/۶۔۱۱۱، کتاب الاستحسان والکراهیة، الفصل السابع عشر في الهدایا والضیافات، بیروت)
ما في ” فتاوی قاضي خان “ : ولا یجوز لمن کان علی المائدة أن یعطي انسانًا دخل هناک لطلب انسان أو حاجة أخری، وکذلک لا یدفع إلی ولد صاحب المائدة وعبده وکلبه وسنوره، رجل دعی قومًا إلی طعام فرقهم علی اخونة لیس لأهل هذا الخوان أن یتناول من طعام خوان آخر، لأن صاحب الطعام إنما أباح لأهل کل خوان أن یأکل ما کان علی خوانه لا غیر۔ (۳۶۶/۴، کتاب الحظر والإباحة)
(فتاویٰ محمودیہ : ۱۲۸/۲۷)
