مخصوص CODوالی اشیاء کا استعمال شرعاً کیسا ہے؟

مسئلہ:

اسکول وکالج کے بعض طلباء کی طرف سے یہ بات دریافت کی جاتی ہے کہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ کھانے کی وہ چیزیں جن کا ای کوڈ -(100، 110، 120، 140، 141، 153، 210، 213، 214، 216،234، 252،270، 280،325، 326، 327، 334، 335، 336، 337، 422، 430، 431، 432، 433، 435، 436، 440، 470، 471، 472، 473، 474، 475، 476، 477،478، 481، 482، 483، 491،492، 493، 494، 495، 542،570، 572، 631، 904 )- ہوتا ہے ، اُن میں خنزیرکی چربی شامل ہوتی ہے، تو ان کا کھانا درست ہے یا نہیں؟ اُن کے اِس سوال کے جواب میں یہ عرض ہے کہ – اگر کوئی کمپنی حرام کھانا بنانے میں معروف نہ ہو تو محض کسی مخصوص کوڈ یا کسی کمپنی کی اشیاء ہونے کی وجہ سے کسی چیز کو شرعاً حرام یا حلال قرار نہیں دیا جاسکتا، مگر یہ کہ یقین کے ساتھ یہ بات معلوم ہوجائے کہ اس کے اجزاء ترکیبیہ (بشمول تمام ای کوڈ) میں سے کوئی چیز حرام ہے، اور کسی کیمیاوی طریقہ سے اس کی حقیقت وماہیت کو تبدیل نہیں کیا گیا، تب تو اس سے بچنا لازم ہوگا، جب کہ تقویٰ کا تقاضہ یہ ہے کہ جس چیز کی حلت وحرمت میں شک ہو، اسے استعمال میں لانے سے احتراز کیا جائے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” جامع الترمذي “ : عن النعمان بن بشیر رضي الله عنه قال: سمعتُ  رسول الله ﷺ یقول: ” الحلال بیّنٌ والحرام بیّن، وبین ذلک أمورٌ مشتبهات، لا یدري کثیرٌ من الناس أمِن الحلال هي أم من الحرام، فمن ترکها استبرأ لدینه وعرضه فقد سلم، ومن واقع شیئًا منها یوشک أن یواقع الحرام کما أنه من یرعی حول الحمی یوشک أن یواقعه، ألا وإن لکل ملک حمی؛ ألا وإن حمی الله محارمه “۔۲۲۹/۱، کتاب البیوع، باب ما جاء في ترک الشبهات، رقم الحدیث:۱۲۰۵)

ما في ” الأشباه والنظائر مع شرحه للحموي “ : هل الأصل في الأشیاء الإباحة – قال الحموي: ذکر العلامة قاسم بن قطلوبغا في بعض تعلیقه أن المختار أن الأصل الإباحة عند جمهور أصحابنا۔ (۲۵۲/۱، تحت القاعدة الثالثة- هل الأصل في الأشیاء الإباحة)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : القاعدة الأولی : الیقین لا یزول بالشک معنی هذه القاعدة ان ما ثبت بیقین لا یرتفع بالشک، وما ثبت بیقین لا یرتفع إلا بیقین۔

(۲۸۹/۵، یقی ، قواعد الفقه:ص/۱۱)

 (فتاویٰ بنوریہ، رقم الفتویٰ:۱۱۶۱۰)

اوپر تک سکرول کریں۔