مسئلہ:
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم دوائی کے طور پر جتنے بھی کیپسول (Capsule)لیتے ہیں، وہ جیلاٹین (Gelatine) سے بنتے ہیں، اور یہ عموماً جانور کی چربی سے حاصل کی جاتی ہے، پودوں سے بہت کم کیپسول بنتے ہیں، اس لیے ان کا استعمال درست نہیں ہے، اُن کی یہ بات اس وقت تک قابلِ تسلیم نہیں، جب تک ان کیپسولوں میں حرام اجزاء کے شامل ہونے کا قطعی طور پر یقین نہ ہوجائے(۱)، بالخصوص اس صورت میں جب کہ ان کیپسولوں کا استعمال عام ہے، اور ہرطرح کے لوگ ان کو استعمال کررہے ہیں، تو محض شک وشبہ کی وجہ سے ان کے استعمال سے بچنے کا حکم نہیں کیا جاسکتا، بلکہ ان کا استعمال کرنا جائز ہوگا(۲)، ہاں! جب یہ بات پایہٴ ثبوت کو پہنچ جائے کہ ان میں حرام اجزاء شامل ہوتے ہیں، تو اس وقت ان کا حکم مختلف ہوگا۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الأشباه لإبن نجیم “ : الیقین لا یزول بالشک۔ (۲۲۰/۱)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : ان ما ثبت بیقین لا یرتفع بالشک، وما ثبت بیقین لا یرتفع إلا بیقین۔ (۲۷۹/۲۵، یقین)
ما في ” الشامیة “ : من شکّ في إنائه أو ثوبه أو بدنه أصابته نجاسة أو لا، فهو طاهر ما لم یستیقن ۔۔۔۔۔ وکذا ما یتخذه أهل الشرک أو الجهلة من المسلمین کالسمن والخبز والأطعمة والثیاب۔ (۲۵۴/۱، کتاب الطهارة، قبیل مطلب في أبحاث الغسل، کذا الفتاوی التاتارخانیة:۱/۷۹، کتاب الطهارة، نوع آخر في مسائل الشک)
(۲) ما في ” موقع المسلم “ : یجوز استعمال الجلاتین المستخرج من المواد المباحة ومن الحیوانات المباحة المذکاة تذکیة شرعیة۔ (علی شبکة نیت/almoslim.net.)
(۳) ما في ” قواعد الفقه “ : الأصل في الأشیاء الإباحة۔ (ص:۵۹، الأشباه لإبن نجیم:۲۵۲/۱، الموسوعة الفقهیة:۱۳۰/۱)
(فتاوی دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۲۹۰۸۴)
