جماعت میں تین دن، چلہ ، چار مہینہ یا سال لگانا

مسئلہ:

تین دن، چالیس دن، چار مہینہ، یا سال کے لیے جماعت میں جانا بدعت نہیں ہے، اسے بدعت قرار دینا جہالت ہے، چلہ اور چار مہینے مقصود نہیں، بلکہ یہ دعوت وتبلیغ اور دین سیکھنے سکھانے کے لیے بزرگانِ دین کا بنایا ہوا ایک نظام ہے، جس طرح مدرسوں میں داخلہ، امتحان اور تعلیم وغیرہ کا نظام ہوتا ہے، جس کی افادیت سے کسی کو انکار نہیں ہوتا، اِس نظام کے جواز کے لیے اتنا کافی ہے کہ اس کا قرآن وحدیث کے خلاف ہونا ثابت نہیں، اور چلہ ، چار مہینہ کا احوال کی تبدیلی میں بڑا دخل ہے، یہ بات قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” صحیح البخاری “ : عن عبد الله بن مسعود قال: حدثنا رسول الله ﷺ وهو الصادق المصدوق: إن أحدکم یجمع في بطن أمه أربعین یومًا ثم علقة مثل ذلک، ثم یکون مضغة مثل ذلک، ثم یبعث الله مَلکًا فیوٴمر بأربع؛ برزقه، وأجله، وشقي وسعید ۔ الحدیث ۔

(۹۷۶/۲، کتاب القدر، باب في القدر، رقم الحدیث:۶۳۴۲، صحیح مسلم:۳۳۲/۲، کتاب القدر، باب کیفیة خلق الآدمی في بطن أمه، رقم الحدیث:۲۶۴۳)

ما في ” جامع الترمذی “ : عن أنس بن مالک قال: قال رسول الله ﷺ: ” من صلی لله أربعین یومًا في جماعة یدرک التکبیرة الأولی کتبت له برأتان؛ برأة من النار، وبرأة من النفاق “۔

(۵۶/۱، أبواب الصلاة، باب في فضل التکبیرة الأولی، رقم الحدیث:۲۴۱، جمع الفوائد:۲۳۴/۱، فضل صلاة الجماعة والمشي إلی المساجد وانتظار الصلاة، رقم الحدیث:۱۶۶۶)

ما في ” کشف الخفاء للعجلونی “ : ” من أخلص لله أربعین یومًا ظهرت ینابیع الحکمة من قلبه علی لسانه “۔ (۲۰۰/۲، رقم الحدیث:۲۳۵۹)

ما في ” بیان القرآن “ : قوله تعالی:﴿فتمّ میقات ربه أربعین لیلة﴾ أصل للأربعین المعتاد عند المشائخ الذي یشاهدون البرکات فیها۔

(۵۶۵/۱، سورة الأعراف، الآیة:۱۴۲، مسائل السلوک)

(فتاویٰ محمودیہ: ۷۱/۵، ط؛ میرٹھ، فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۴۳۰۲۹)

اوپر تک سکرول کریں۔