شبِ معراج میں وعظ وغیرہ کا التزام کرنا کیسا ہے؟

مسئلہ:

نفسِ وعظ ، امر بالمعروف ونہی عن المنکر ، یا واقعہٴ معراج کو بیان کرنے کے لیے لوگوں کو جمع کرنا شرعاً درست اور مفید ہے، مگر ۲۷/ رجب کی شب میں عشا کے بعد اس کا اہتمام اور پابندی، اسی طرح شیرینی اور نفل نمازوں کا التزام- بے دلیل، بدعت اور خلافِ شرع ہے(۱)، اِس شب میں روزانہ کی نماز کے علاوہ خصوصی نوافل کا اہتمام کہیں ثابت نہیں، نہ کبھی حضورِ اقدس ﷺ نے کیا، نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے، نہ تابعین رحمہم اللہ نے کیا، بلکہ علامہ حلبی، علامہ ابن نجیم اور علامہ طحطاوی رحمہم اللہ نے اس رَواج پر نکیر فرمائی ہے(۲)، لیکن اگر کوئی شخص اس رات اور دوسری راتوں میں کوئی فرق وامتیاز کیے بغیر ، مثلاً گزشتہ رات بھی جاگا تھا آج بھی جاگ لے، اور ۲۷/ رجب کو بھی جاگ لے، اور ذکر وعبادت میں مشغول رہے، تو یہ بہتر ہی بہتر ہے، بدعت نہیں، اسی طرح بعض لوگ ۲۷/ رجب کو روزہ رکھتے ہیں، اور بہت ثواب سمجھتے ہیں، حالانکہ اس تاریخ کو روزہ رکھنے کی فضیلت پر جو روایات وارد ہوئی ہیں، محدثین کے نزدیک وہ روایات صحت کونہیں پہنچتیں، شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ نے ”ماثبت بالسنة “ میں ذکر کیا ہے کہ بعض بہت ضعیف ہیں، اور بعض موضوع ہیں۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” مجموعة رسائل اللکنوي “ : فکم من مباح یصیر بالالتزام من غیر لزوم والتخصیص من غیر مخصص مکروها۔

(۴۹۰/۳، إدارة القرآن کراتشی، سباحة الفکر في الجهر بالذکر، الباب الأول تحت الثاني والأربعون:ص/۳۴)

(۲) ما في ” حلبي کبیر“ : واعلم أن النفل بالجماعة علی سبیل التداعي مکروه علی ما تقدم ما عدا التراویح وصلاة الکسوف والاستسقاء، فعلم أن کلا من صلاة الرغائب لیلة أول جمعة من رجب، وصلاة البراء ة لیلة النصف من شعبان، وصلاة القدر لیلة السابع والعشرین من رمضان بالجماعة بدعة مکروهة ۔۔۔۔۔۔۔۔ ولا ینبغي أن یتکلف لإلتزام ما لم یکن في الصدر الأول کل هذا التکلف لإقامة أمر مکروه، وهو أداء النفل بالجماعة علی سبیل التداعي۔ (ص:۴۳۲۔۴۳۳)

ما في ” البحر الرائق “ : ویکره الإجتماع علی إحیاء لیلة من هذه اللیالي في المساجد، قال في الحاوي القدسي: ولا یصلی تطوع بجماعة غیر التراویح ۔۔۔۔۔۔۔ ومن هنا یعلم کراهة الإجتماع علی صلاة الرغائب التي تفعل في رجب في أول لیلة منها، وإنها بدعة۔(۹۳/۲، کتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل)

(۳) (فتاویٰ محمودیہ: ۴۳۳/۵، ط: میرٹھ، ۲۸۴/۳، ط: کراچی)

اوپر تک سکرول کریں۔