مسئلہ:
دو سورتوں کو فرض کی ایک ہی رکعت میں جمع کرنے کے سلسلے میں روایاتِ احادیث مختلف ہیں، جن کے مابین تطبیق دیتے ہوئے فقہاء کرام نے فرمایا ہے کہ ؛ دو سورتوں کا ایک رکعت میں جمع کرنا جائز ہے، لیکن خلافِ اَولیٰ ہے، خصوصاً امام کے لیے افضل یہ ہے کہ قرأتِ مسنونہ پر اکتفا کرے، اور نماز کو طویل نہ کرے، ”احسن الفتاویٰ“ میں ہے:”فرض نماز کی ایک رکعت میں دو سورتیں جمع کرکے پڑھنا خلافِ اَولیٰ ہے“۔(۱)
”فتاویٰ محمودیہ“ میں ہے: ”فرائض میں نامناسب ، نوافل میں مضائقہ نہیں“۔(۲)
”عمدة الفقہ“ میں ہے: ”قرأتِ مسنونہ پر زیادتی نہ کرے اور نماز کو جماعت پر بھاری نہ کرے، لیکن پوری سنت اور مستحب قرأت ادا کرنے کے بعد تخفیف کا لحاظ رکھے“۔(۳)
لیکن چوں کہ صحابہٴ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے دوسورتوں کو ایک رکعت میں جمع کرناثابت ہے، اس لیے کبھی کبھی جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) (احسن الفتاویٰ : ۷۶/۳، باب القرأة والتجوید)
(۲) (فتاویٰ محمودیہ:۹۰/۷، کراچی)
(۳) (عمدة الفقہ :۱۱۶/۲، چوتھی فصل، قرأت کا بیان، مکتبہ مجددیہ)
(۴) (فتاویٰ دار العلوم زکریا :۲۰۸/۲- ۲۱۱)
