مسئلہ:
اگر کسی شخص نے نماز کی پہلی رکعت میں کوئی سورت تلاوت کی اور دوسری رکعت میں اس سے بڑی سورت تلاوت کی، تو سورت کا چھوٹی بڑی ہونا اگر ان سورتوں میں ہوا جن کی آیات چھوٹی بڑی ہونے میں قریب قریب ہے، تو تین آیتوں کی مقدار زیادتی سے کراہتِ تنزیہی لازم آئے گی، اور اگر یہ صورت ان بڑی سورتوں میں پیش آئی جن کی آیات میں چھوٹے بڑے ہونے کا نمایاں فرق ہو، تو حروف کی گنتی کا اعتبار ہوگا، جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر دوسری رکعت میں جو سورت پڑھی گئی اس کے زیادتی والے حروف پہلی رکعت کی سورت کے نصف کے برابر یا زائد ہیں، تو کراہت ہوگی ، ورنہ نہیں(۱)، جو سورتیں آپ ﷺ سے ثابت ہیں، وہ کراہت میں داخل نہیں۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” رد المحتار “ : والحاصل أن سنیة إطالة الأولی علی الثانیة وکراهیة العکس إنما تعتبر من حیث عدد الآیات إن تقاربت الآیات طولا وقصرا، فإن تفاوتت تعتبر من حیث الکلمات فإذا قرأ في الأولی من الفجر عشرین آیة طویلة وفي الثانیة منها عشرین آیة قصیرة تبلغ کلماتها قدر نصف کلمات الأولی فقد حصل السنة، ولو عکس یکره۔
(۲۳۳/۲، کتاب الصلاة ، مطلب: السنة تکون سنة عین وسنة کفایة)
ما في ” تبیین الحقائق “ : قال المرغیناني: التطویل یعتبر الکلمات إن کانت متقاربة وإن کانت الآیات متفاوتة من حیث الطول والقصر یعتبر الکلمات والحروف ولا یعتبر بالزیادة والنقصان فیما دون ثلث آیات لعدم إمکان الاحتراز عنه، وقیل ینبغي أن یکون التفاوت بالثلث والثلثین۔ (۳۳۶/۱، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة)
(۲) ما في ” رد المحتار “ : قوله: (واستثنی في البحر ما وردت به السنة) أي کقرائته علیه الصلاة والسلام في الجمعة والعیدین في الأولی بالأعلی وفي الثانیة بالغاشیة فإنه ثبت في الصحیحین مع أن الأولی تسع عشرة آیة والثانیة ستة وعشرون۔ (۲۳۴/۲، کتاب الصلاة)
ما في ” البحر الرائق “ : وأما ما ورد عنه علیه الصلاة والسلام في شيء من الصلاة فلا والکراهة تنزیهیة وفعله علیه الصلاة والسلام تعلیما للجواز لا یوصف بها۔
(۵۹۷/۱، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة)
(فتاویٰ محمودیہ:۸۷/۷)
