مسئلہ:
اگر نمازیوں تک آواز پہنچانے کے لیے مائک کے استعمال کی ضرورت ہوتو ایسا مائک استعمال کرنا چاہیے، جس کی آواز سے مسجد میں گونج نہ پیدا ہوتی ہو، اور نہ ہی نمازیوں کو اس سے دِقّت ہوتی ہو، کیوں کہ علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”کسی آدمی کا اتنے بلند آواز سے ذکر کرنا جس سے کسی سونے والے کی نیند خراب ہو، یا کسی نمازی اور قارئ قرآن کو دِقّت وپریشانی لاحق ہو، مکروہ ہے“، جب یہ حکم ذکر کے متعلق ہے تو پھر ”اِیکو ساوٴنڈ سسٹم“ (Echo Sound System)جس سے مسجد میں گونج پیدا ہوتی ہو،اور نمازیوں کو دِقّت ہوتی ہو- کے استعمال کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟ لہٰذا مساجد کے منتظمین اِس جانب خصوصی توجُّہ دیں! اور مساجد میں سادہ ساوٴنڈ سسٹم استعمال کریں! اور اس میں بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ آواز ضرورت سے زائد نہ ہو۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” رد المحتار “ : قوله: (ورفع صوت بذکر الخ) ۔۔۔۔۔۔۔ وفي حاشیة الحموي عن الإمام الشعراني: أجمع العلماء سلفًا وخلفًا علی استحباب ذکر الجماعة في المساجد وغیرها إلا أن یشوّش جهرهم علی نائم أو مصلّ أو قارئ الخ۔
(۴۳۴/۲، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها، مطلب في رفع الصوت بالذکر، حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح:ص/۳۱۸، کتاب الصلاة، فصل في صفة الأذکار، ط: مکتبة شیخ الهند، الموسوعة الفقهیة:۲۰۷/۳۷، مسجد، رفع الصوت في المسجد والجهر فیه، الفتاوی الحدیثیة: ص/۱۰۸، مطلب في الجهر بالأوراد عقب الصلاة سنة الخ، ط: احیاء التراث)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ:۲۸۹۰)
