مسئلہ:
بعض اوقات نمازِ جمعہ سے پہلے وعظ وتقریر ہوتی ہے، اور لوگ اس دوران سنتیں پڑھ رہے ہوتے ہیں، اسی طرح کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی نماز کے بعد کوئی واعظ اور مقرر اپنا وعظ وتقریر شروع کردیتا ہے، اور لوگ سنتوں میں مشغول ہوتے ہیں، اِن دونوں صورتوں میں نمازیوں کو وعظ وتقریر سے پریشانی ہوتی ہے، اور ان کی نماز میں خلل واقع ہوتا ہے، حالانکہ حکمِ شرعی یہ ہے کہ مسجد میں اتنی بلند آواز سے ذکر، تلاوت اور وعظ وغیرہ درست نہیں ہے، جس سے نمازیوں کو پریشانی ہو، اس لیے بہتر یہ ہے کہ جمعہ سے پہلے وعظ وتقریر کے دروان سنتیں نہ پڑھی جائیں، بلکہ وعظ وتقریر کے بعد ادا کی جائیں، اور اس کے لیے مستقل موقع دیا جائے، اسی طرح نماز کے فوراً بعد تقریر شروع نہ کی جائے، بلکہ لوگوں کے سنتوں سے فارغ ہونے کا انتظار کیا جائے، اور اگر کسی نمازی کو سنتوں کے علاوہ دیگر نوافل یا قضا نمازیں پڑھنی ہو، تو ایک طرف ہوکر ادا کریں، تاکہ کسی کے عمل سے دوسرے کو خلل نہ ہو۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” رد المحتار “ : أجمع العلماء سلفًا وخلفًا علی استحباب ذکر الجماعة في المساجد وغیرها، إلا أن یشوش جهرهم علی نائم أو مصل أو قارئ ۔ الخ ۔
(۴۳۴/۲، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها، مطلب في رفع الصوت بالذکر، حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح: ص/۳۱۸، کتاب الصلاة، فصل في صفة الأذکار، ط: مکتبة شیخ الهند دیوبند، الموسوعة الفقهیة: ۲۰۷/۳۷، مسجد، رفع الصوت في المسجد والجهر فیه، الفتاوی الحدیثیة: ص/۱۰۸، مطلب في الجهر بالأوراد عقب الصلاة سنة الخ، ط: احیاء التراث العربي)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۵۲۰۰۷)
