مریض کے سلسلے میں ایک کوتاہی

مسئلہ:

آج کل ہم سے ایک کوتاہی یہ ہورہی ہے کہ مریض کی دَوا دارُو، علاج مُعالَجہ اور دیگر تمام تدابیر اختیار کی جاتی ہیں، پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے، لیکن دعا کا اہتمام نہیں کرتے، بلکہ اُس کا خیال ہی نہیں آتا، حالانکہ یہ دعاءِ منصوص(حدیث سے ثابت) عظیم ترین تدبیر ہے، اور اس کی توفیق نہ ہونا سخت محرومی کی بات ہے، مریض کو اگر ہوسکے تو خود دعا کرنی چاہیے، کیوں کہ حالتِ مرض میں دُعا قبول ہوتی ہے، ورنہ اعِزّہ واقارِب کو پوری توجُّہ اور دھیان سے دعا کرنی چاہیے، گھر کے ایک فرد کا بیمار ہونا اور تمام اہلِ خانہ کا پریشان ہونا خود حق تعالیٰ کی طرف توجہ دلا رہا ہے، اور ایمان کا تقاضا بھی یہ ہے کہ اپنے خالق ومالک کی طرف توجہ کی جائے، اوراُسی سے مدد مانگی جائے، اور صحت وعافیت کی دعا کی جائے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وقال ربکم ادعوني استجب لکم﴾ ۔ (غافر:۶۰)﴿ادعوا ربکم تضرعا وخفیة﴾ ۔ (الأعراف :۵۵)﴿إذا سألک عبادي عني فإني قریب اجیب دعوة الداع إذا دعان﴾ ۔ (البقرة :۱۸۶)﴿أمن یجیب المضطرّ إذا دعاه ویکشف السوء﴾ ۔ (النمل :۶۲

ما في ” ریاض الصالحین “ : وعن النعمان بن بشیر رضي الله عنهما، عن النبي ﷺ قال: ” الدعاء هو العبادة “۔ رواه أبوداود والترمذي وقال: حدیث حسن صحیح۔

(ص:۵۴۴، رقم الحدیث:۱۴۶۵، کتاب الدعوات، دار المؤید جدّه)

وفیه أیضًا : عن أبي الدرداء رضي الله عنه، أنه سمع رسول الله ﷺ یقول: ” ما من عبد مسلم یدعو لأخیه بظهر الغیب إلا قال الملک: ولک بمثل “۔ رواه مسلم

وعنه أن رسول الله ﷺ کان یقول: ” دعوة المرء المسلم لأخیه بظهر الغیب مستجابة عند رأسه مَلک موَکل، کلما دعا لأخیه بخیر قال الملک المؤکل به: آمین ولک بمثل “۔ رواه مسلم(ص:۵۵۲، رقم: ۱۴۹۴۔۱۴۹۵، باب فضل الدعاء بظهر الغیب)

ما في ” جامع الترمذي “ : عن أبي هریرة رضي الله عنه، عن النبي ﷺ قال: ”لیس شيء أکرم علی الله تعالی من الدعاء “۔(۱۹۵/۴، رقم :۳۳۷۰)

عن أنس بن مالک، عن النبي ﷺ قال: ” الدعاء مخّ العبادة “ ۔(۲۹۵/۴۔۲۹۶، رقم:۳۳۷۱)

عن النعمان بن بشیر، عن النبي ﷺ قال: ” الدعاء هو العبادة “ ثم قرأ: ﴿وقال ربکم ادعوني استجب لکم ۔ إن الذین یستکبرون عن عبادتي سیدخلون جهنم داخرین﴾ ۔

(۲۹۶/۴، رقم :۳۳۷۲، باب ما جاء في فضل الدعاء، ط: بیروت)

عن ابن عباس ، عن أبي بن کعب : ” أن رسول الله ﷺ کان إذا ذکر أحدًا فدعا له وبدأ بنفسه “۔(۳۰۲/۴، رقم:۳۳۸۵ ، باب ما جاء أن الداعي یبدأ بنفسه)

(احکام میت:ص/۱۹۷، بحوالہ اصلاح انقلاب امت:۲۳۰/۱)

اوپر تک سکرول کریں۔