مسئلہ:
اگر میت خُنثیٰ مشکل ہو اور وہ بالغ یا مُراہق یعنی قریب البلوغ ہو، تو اس کو غسل نہیں دیا جائے گا، اگر اس کا کوئی مَحرم ہو تو اس کو تیمم کرادے، اور اگر کوئی مَحرم نہ ہو تو اجنبی آدمی ہاتھوں پر کپڑا لپیٹ کر اس کو تیمم کرادے، یہ تیمم غسل کے قائم مقام ہوگا، اور اگر میت مُراہق نہ ہو بلکہ چھوٹا بچہ ہو تو پھر اُسے مرد وعورت دونوں غسل دے سکتے ہیں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” مراقی الفلاح “ : وکذا الخنثی المشکل ییمم في ظاهر الروایة، وقیل یجعل في قمیص لا یمنع وصول الماء إلیه، ویجوز للرجل والمرأة تغسیل صبي وصبیة لم یشتهیا لأنه لیس لأعضائهما حکم العورة۔ (ص:۲۱۱، باب أحکام الجنائز، ط: بیروت)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : والخنثی المشکل المراهق لا یغسل رجلا ولا امرأة ولا یغسلها رجل ولا امرأة ویُیَمِّم وراء الثوب ۔ والله أعلم ۔(۱۶۰/۱، الفصل الثاني في الغسل)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وییمم الخنثی المشکل لو مراهقا وإلا فکغیره فیغسله الرجال والنساء۔ (۹۴/۳۔۹۵، باب صلاة الجنازة، قبیل مطلب في الکفن)
وفیه أیضًا: (ولو مات قبل ظهور حاله لم یغسل ویمم بالصعید) لتعذر الغسل ۔ در مختار ۔ وفي الشامیة: قال الشامي رحمه الله: قوله: (ویمم) أي بخرقة إن یممه أجنبي وبغیرها إن یممه ذو رحم محرم منه۔ (۴۵۰/۱۰، کتاب الخنثی، بیروت)
(فتاویٰ دار العلوم زکریا: ۶۲۲/۲، آپ کے مسائل اور اُن کا حل:۲۹۱/۴)
