مسئلہ:
عوام میں مشہور ہے کہ جس شخص کاجمعہ کے دن انتقال ہوجائے، اس کو عذابِ قبر نہیں ہوتا، یہ بات ترمذی شریف کی حدیث سے ثابت ہے، (البتہ ترمذی کی جس روایت میں یہ فضیلت وارد ہوئی ہے، اس کی سند میں انقطاع ہے، لیکن اس کے دیگر طُرُق بھی ہیں، جن میں اتصال پایا جاتا ہے، جن کوابن حجر وغیرہ نے ذکر کیا ہے، اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اس کے لیے شاہد ہے، لہٰذا حدیث صحیح اور قابلِ استدلال ہے)، لیکن صرف جمعہ کے دن کی موت کو جنت کا سرٹیفکٹ نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اعمالِ صالحہ کی ضرورت قرآن کریم کی آیات اور بے شمار احادیث سے واضح ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” جامع الترمذی “ : عن عبد الله بن عمرو رضي الله تعالی عنه قال: قال رسول الله ﷺ: ” ما من مسلم یموت یوم الجمعة أو لیلة الجمة إلا وقاه الله فتنة القبر “ ۔ قال أبو عیسی: هذا حدیث غریب ولیس اسناده بمتصل۔ ربیعة بن سیف انما یروی عن أبي عبد الرحمن الحلبي عن عبد الله بن عمرو ولا نعرف لربیعة بن سیف سماعًا عن عبد الله بن عمرو۔(۲۰۵/۱، أبواب الجنائز، باب ما جاء في من یموت یوم الجمعة، قدیمی، مرقاة المفاتیح:۴۱۶/۳، ردالمحتار:۴۴/۳)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند:۴۵۹/۵، احسن الفتاویٰ: ۲۰۸/۴، فتاویٰ دار العلوم زکریا:۲۷۲/۱-۲۷۴)
