حادثہ میں مرنے والی مسلم عورتوں کی شناخت

مسئلہ:

بسا اوقات کوئی بس یا ٹرین حادثہ کا شکار ہوجاتی ہے، جس میں مسلم وغیر مسلم مسافر موجود ہوتے ہیں، ایکسیڈنٹ کے بعد مسلم مَردوں کی پہچان توکسی حد تک ممکن ہوتی ہے، مگر مسلم عورتوں کی پہچان میں دشواری ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اُن کے غسل اور تجہیز وتکفین کا مسئلہ سنگینی اختیار کرجاتا ہے، اس سلسلے میں فقہ اسلامی کی ہدایات یہ ہیں کہ اگر اُس علاقہ میں مسلم عورتوں کی کوئی خاص علامت ہو، جو غیر مسلم عورتوں میں نہ پائی جاتی ہو، تو اُس علامت سے مسلم عورتوں کی شناخت کی جائیگی، اور اگر کوئی علامت نہ ہو، تو اکثریت کا اعتبار کیا جائیگا، مسلم عورتیں زیادہ تھیں تو مسلمانوں کے احکام جاری کرکے غسل وکفن وغیرہ دیا جائیگا، اور اُن پر نمازِ جنازہ پڑھی جائیگی، دعا میں مسلمانوں کا قصد کیا جائیگا، اور مسلمانوں کے قبرستان میں اُن کی تدفین کی جائیگی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : فروع: لو لم یدرأ أمسلم أم کافر ولا علامة، فإن في دارنا غسل وصلي علیه وإلا لا۔ اختلط موتانا بکفار ولا علامة اعتبر الأکثر فإن استووا غسلوا ۔ در مختار ۔ وفي الشامیة: وفیها أن علامة المسلمین أربعة: الختان والخضاب ولبس السواد وحلق العانة ۔۔۔۔۔۔ قال في الحلیة: فإن کان بالمسلمین علامة فلا إشکال في إجراء أحکام المسلمین علیهم، وإلا فلو المسلمون أکثر صلي علیهم وینوی بالدعاء المسلمین۔

(۹۳/۳۔۹۴، باب صلاة الجنازة، مطلب في حدیث کل سبب ونسب منقطع إلا سببي ونسبي)

ما في ” بدائع الصنائع “ : لو اجتمع موتی المسلمین والکفار إن کان بالمسلمین علامة یمکن الفصل بها یفصل ۔۔۔۔۔۔۔ وإن لم یکن بهم علامة ینظر إن کان المسلمون أکثر غسلوا وکفنوا ودفنوا في مقابر المسلمین وصلی علیهم وینوی بالدعاء المسلمین۔ (۳۱/۲)

ما في ” الفتاوی الولوالجیة “ : إذا اجتمع موتی المسلمین والکفار والمسلمون أکثر غسلوا وکفنوا وصلی علیهم وینوی بالدعاء المسلمین، وإن کان الکفار أکثر لم یغسلوا، لأن العبرة للغالب في الشرع۔

(۱۶۱/۱، الفصل الثالث عشر في الجنائز وغسل المیت وغیره الخ، الفتاوی التاتارخانیة:۶۱۷/۱، الفصل الثاني والثلاثون في الجنائز، نوع آخر من هذا الفصل في المتفرقات)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ :۴۸۷۴)

اوپر تک سکرول کریں۔