مسئلہ:
نمازِ جنازہ میں امام کو میت کے سر یا پیر کی جانب نہیں کھڑا ہونا چاہیے، بلکہ سینے کے مقابلہ میں کھڑا ہونا چاہیے، اور جس روایت میں یہ آتا ہے کہ آپ ﷺ نے میت کو سامنے رکھ اس کے بیچوں بیچ کھڑے ہوکر نماز پڑھائی ہے، اس کا مطلب بھی یہی ہے (یعنی سینے کے مقابلہ میں کھڑا ہونا)، کیوں کہ سر اور ہاتھ سینے سے اوپر ہیں، اور پیٹ اور پیر سینے کے نیچے ہیں، لہٰذا سینہ درمیان میں ہوا، نیز سینہ محلِ ایمان وحکمت وعلم ہے، اس لیے سینے کو فوقیت حاصل ہے، لیکن اگر کسی نے گھٹنے یا کندھے کے مقابل میں کھڑے ہوکر نماز پڑھادی، تب بھی نماز صحیح ہوگی، اس لیے کہ صحتِ نمازِ جنازہ کے لیے میت کے کسی حصے کے سامنے اور مقابلے میں ہونا شرط ہے، اور وہ اس صورت میں پائی گئی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” المبسوط للسرخسي “ : (قال): (وأحسن مواقف الإمام من المیت في الصلاة علیه بحذاء الصدر، وإن وقف في غیره أجزأه) وکان ابن أبي لیلی رحمه الله یقول: یقف من الرجل بحذاء الصدر، ومن المرأة بحذاء وسطها ، لما روي أن ” أم بریدة صلی علیها الرسول ﷺ فوقف بحذاء وسطها “۔ (ولنا) أن أشرف الأعضاء في البدن الصدر فإنه موضع العلم والحکمة، وھو أبعد من الأذی، والوقوف عنده أولی، کما في حق الرجال، ثم الصدر موضع نور الإیمان، قال الله تعالی: ﴿أ فمن شرح الله صدره للإسلام﴾ (الزمر:۲۲) وإنما یصلی علیه لإیمانه فیختار الوقوف حذاء الصدر لهذا أو الصدر هو الوسط في الحقیقة فإن فوقه رأس ویدان وتحته بطن ورجلان۔
(۱۰۵/۲، کتاب الصلاة، باب غسل المیت، عمدة القاري:۴۶۹/۳ ، کتاب الحیض، باب الصلاة علی النفساء وسنّتها، رقم:۳۳۲)
ما في ” رد المحتار “ : قوله: (وکونه هو أو أکثره أمام المصلي) المناسب ذکر قوله ” هو وأکثره “ بعد قوله ” حضوره “ لأنه احتراز عن کونه خلفه مع أنه یوهم اشتراط محاذاته للمیت أو أکثره، ولیس کذلک، فقد ذکر القهستاني عن التحفة أن رکنها القیام ومحاذاته إلی جزء من أجزاء المیت۔
(۱۰۴/۳۔۱۰۵، باب صلاة الجنازة، مطلب هل یسقط فرض الکفایة بفعل الصبي، تبیین الحقائق:۵۷۸/۱، کتاب الصلاة، باب الجنائز، فصل السلطان أحق بصلاته)
(فتاویٰ محمودیہ:۵۷۹/۸۔۵۸۰، مکتبہ فاروقیہ کراچی)
