مسئلہ:
غیر مسلم کے جنازہ کے ساتھ ساتھ مَرگھَٹ (ہندووٴں کے مُردے جلانے کی جگہ) جانا، اور وہاں مذہبی رُسوم میں شرکت کرنا، دونوں باتیں ناجائز ہیں، ہاں! گھر پر تعزیت کی اجازت ہے، جیسا کہ علامہ شامی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کا پڑوسی یہودی یا مجوسی ہو، اور اس کے بیٹے یا کسی قریبی کا انتقال ہوجائے، تو مسلم کو اس کی تعزیت کرنی چاہیے، اور یہ کلمات کہنے چاہیے: ” أخْلَفَ اللّٰہُ خَیْرًا مِنْہُ وَأصْلَحَکَ “ یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو جانے والے شخص سے بہتر جانشین عطا کرے، اور آپ کی اصلاح فرمائے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” مرقاة المفاتیح “ : حدیث ثوبان یدل علی أن الملائکة تحضر الجنازة، والظاهر أن ذلک عام مع المسلمین بالرحمة ومع الکفار باللعنة۔
(۱۴۰/۴، کتاب الجنائز، باب المشي بالجنازة والصلاة علیها، الفصل الثاني، تحت رقم الحدیث: ۱۶۷۲)
ما في ” الشامیة “ : وفي النوادر: جار یهودي أو مجوسي مات ابن له أو قریب ینبغي أن یعزیه ویقول: أخلف الله علیک خیرًا منه وأصلحک، وکان معناه: أصلحک الله بالإسلام- یعني رزقک الإسلام ورزقک ولدًا مسلمًا ۔ کفایة ۔
(۵۵۷/۹، کتاب الحظر والإباحة، فصل في البیع ، البحر الرائق:۳۷۴/۸، کتاب الکراهیة، فصل في البیع، الفتاوی الهندیة:۱۶۷/۱، الباب الحادي والعشرون، ومما یتصل بذلک مسائل التعزیة الخ)
(فتاویٰ محمودیہ: ۳۹/۹، ط؛ کراچی، ۳۰۰/۱۳، ط؛ میرٹھ، کتاب الفتاویٰ: ۱۶۶/۳)
