میت کی تصویر کشی اور اخبار میں میت کا فوٹو دینا

مسئلہ:

بعض لوگ نمازِ جنازہ سے فارغ ہوکر میت کا منھ کھول کر ، اُس کا فوٹو کھینچتے یا کھنچواتے ہیں، تاکہ بطورِ یادگار اُس کو رکھیں، یا اَخبار میں میت کا فوٹو دیتے ہیں، یا د رکھئے! شرعاً یہ عمل ناجائز وحرام ہے، کیوں کہ اسلام میں جاندار کی تصویر کشی خواہ وہ با حیات(زندہ) ہو یا مُردہ ، قطعاً جائز نہیں، نیز موت کے بعد کسی انسان کو گناہ کا ذریعہ اوروسیلہ بنانا بہت ہی زیادتی ونا انصافی کی بات ہے، اور ممکن ہے کہ عام تصویر کشی کے مقابلہ میں اُس کا گناہ زیادہ ہو، لہٰذا اِس سے پرہیز کیا جائے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” صحیح البخاري “ : قوله علیه السلام: ”إن أشدّ الناس عذاباً عند الله المصورون“۔

(۸۸۰/۲، کتاب اللباس، باب عذاب المصورین یوم القیامة، صحیح مسلم:۲۰۱/۲، کتاب اللباس والزینة، باب تحریم تصویرصورة الحیوان)

ما في ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي “ : قال القرطبي رحمه الله تعالی: یدل علی المنع من تصویر شيء أي شيء کان۔ (۲۷۴/۱۴)

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ :لا تمثالَ إنسان أو طیر۔الدر المختار۔وفي الشامیة: قوله:(أو طیر)لحرمة تصویر ذي الروح۔(۵۱۹/۹، الحظر والإباحة،فصل في اللبس)

ما في ” شرح النووي علی هامش مسلم “ : قال أصحابنا وغیرهم من العلماء: ”تصویر صورة الحیوان حرام شدید، وهو من أکبر الکبائر، لأنه متوعد علیه بهٰذا الوعید الشدید المذکور في الأحادیث، وسواء صنعه بما یمتهن أو بغیره، فصنعته حرام بکل حال، لأن فیه مضاهاة لخلق الله تعالی، وسواء کان في ثوب أو بساط أو درهم أو دینار أو فلس أو إناء أو حائط أو غیرها۔

(۱۹۹/۲، کتاب اللباس والزینة، باب تحریم صورة الحیوان، رد المحتار:۴۱۶/۲، کتاب الصلاة، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها، مطلب: إذا تردّد الحکم بین سنة وبدعة کان ترک السنة أولی)

ما فی ” الموسوعة الفقهیة “ : یحرم تصویر ذوات الأرواح مطلقاً، أی سواء أکان للصورة ظل أو لم یکن، وهو مذهب الحنفیة والشافعیة والحنابلة۔ (۱۰۳/۱۲، تصویر)

(احکامِ میت:ص/۲۱۱، کتاب الفتاویٰ:۲۴۹/۳، خیر الفتاویٰ:۲۴۳/۳، مکتبة الحق جوگیشوری بمبئی)

اوپر تک سکرول کریں۔