وقف مکمل ہونے کے بعد اس میں تبدیلی

مسئلہ:

اگر کوئی زمین مسجد یا مدرسہ کے لیے وقف کردی گئی، اور متولی یا ذمہ داران کے حوالہ کردی گئی، تو یہ زمین واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں چلی گئی، وقف مکمل ہونے کے بعد اس میں کسی قسم کی تبدیلی جائز نہیں، خود وقف کرنے والے کو بھی اس میں ردّ وبدل کرنا جائز نہیں، اب دوبارہ مسجد کی زمین مدرسہ میں ، یا مدرسہ کی زمین مسجد میں وقف نہیں کی جاسکتی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : فإذا تم ولزم لا یملک ولا یعار ولا یرهن۔ (۵۳۹/۶، کتاب الوقف)

ما في ” الفقه الإسلامي وأدلته “ : إذا صحّ الوقف خرج عن ملک الواقف، وصار حبیسًا علی حکم ملک الله تعالی، ولم یدخل في ملک الموقوف علیه، بدلیل انتقاله عنه بشرط الواقف (المالک الأول) کسائر أملاکه، وإذا صحّ الوقف لم یجز بیعه ولا تملیکه ولا قسمته۔

(۷۶۱۷/۱۰، الباب الخامس الوقف، الفصل الثالث حکم الوقف، ومتی یزول ملک الواقف؟)

ما في ” تبیین الحقائق “ : وقد بیناه من قبل وإذا صار مسجدًا علی اختلافهم زال ملکه عنه وحرم بیعه فلا یورث، ولیس له الرجوع فیه، لأنه صار لله بقوله تعالی: ﴿وأن المسٰجد لله﴾۔ ولا رجوع فیما صار لله تعالی کالصدقة۔ (۲۷۱/۴، کتاب الوقف)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۳۸۴۰۶)

اوپر تک سکرول کریں۔