دینی تعلیم کے لیے حکومتی امداد

مسئلہ:

فی نفسہ دینی تعلیم کے مقصد سے حکومت سے اِمداد لینا جائز ہے، اور حکومت کی طرف سے ملنے والی اِمداد جس مَدْ کے لیے ہو، اسی میں صَرف کی جائے، اگر بچوں کے لیے ہے تو ان پر خرچ کی جائے، اور اگر اساتذہ کی تنخواہ کے لیے ہے تو ان کی تنخواہ میں استعمال کی جائے(۱)، لیکن ”مدارسِ عربیہ اسلامیہ“ جن کا مقصد علمِ دین کی تعلیم وترویج اور دینِ اسلام کی نشر واشاعت ہے، ان میں ہمارے اکابرین نے حکومت کی امداد لینے کو پسند نہیں فرمایا، تاکہ دینی مقاصد میں حکومت کی مُداخَلَت کا اِمکان نہ رہے، اس لیے اہلِ مدارس کو حکومت کی امداد لینے سے احتیاط کرناچاہیے۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (التوکیل صحیح) بالکتاب والسنة (وهو إقامة الغیر مقام نفسه) ترفها أو عجزًا (في تصرف جائز معلوم)۔ (۲۱۰/۸-۲۱۳، کتاب الوکالة)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : أما معناها شرعًا: فهو إقامة الإنسان غیره مقام نفسه في تصرف معلوم ۔۔۔۔۔۔ (وأما حکمها) فمنه قیام الوکیل مقام المؤکل فیما وکله به۔

(۵۶۰/۳-۵۶۶، کتاب الوکالة، الباب الأول في بیان معناها شرعًا ورکنًا)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : الوکیل أمین، وذلک لأنه نائب عن الموٴکل في الید والتصرف فکانت یده کیده۔ (۲۵۰/۲۸)

ما في ” جمهرة القواعد الفقهیة “ : الوکیل قائم مقام مؤکله فیما وکله به۔(۹۸۸/۲، و۸۰۳/۲، حرف القاف، الفتاوی الولوالجیة:۳۲۶/۴)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۵۰۷۱۴)

(۲) ما في ” الفقه الإسلامي وأدلته “ : سدّ الذرائع أصل من أصول الشریعة الإسلامیة، وحقیقته منع المباحات التي یتوصل بها إلی مفاسد أو محظورات۔

(۵۲۵۸/۷، رقم القرار:۹۶/۸/۹۵، المقاصد الشرعیة :ص/۴۶)

اوپر تک سکرول کریں۔